7 نومبر 2026 - 17:40
2 | گروزنی کی دلدل سے پیوتن کے ظہور تک؛ مکتبِ وایمار اور روس کی انتقامی مشین کی پیدائش

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پیوتن روس میں طاقت کے خلا کا نتیجہ نہیں تھے؛ وہ ایک دہائی کی شکست، ذلت اور انتشار کے بطن سے ابھرے۔ گروزنی کے کھنڈرات سے وایماری فکر کی پیدائش تک، روس ایک "آہنی مکّے والے نجات دہندہ" کے ظہور کے لئے کیونکر تیار ہؤا؟

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پیوتن روس میں طاقت کے خلا کا نتیجہ نہیں تھے؛ وہ ایک دہائی کی شکست، ذلت اور انتشار کے بطن سے ابھرے۔ گروزنی کے کھنڈرات سے وایماری فکر کی پیدائش تک، روس ایک "آہنی مکّے والے نجات دہندہ" کے ظہور کے لئے کیونکر تیار ہؤا؟

حصۂ دوئم:

گروزنی کی دلدل؛ پہلی چیچن جنگ میں سرخ فوج کی تذلیل

اس سے پہلے کہ قفقاز میں پہلی گولی بھی چلے، 30 لاکھ سے زائد اہلکاروں، سمندری بیڑوں اور ہزاروں ایٹمی وار ہیڈز پر مشتمل فوج عظیم فوج کی روح روزمرہ کی تذلیل ذلت کے بوجھ تلے توڑی مروڑی جا چکی تھی؛ ایسی فوج جس کے اعلیٰ افسران اور ماہر ہواباز مہینوں تنخواہ نہیں لے پا رہے تھے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے سرخ فوج کے فوجی ہیلمٹ، نائٹ وژن کیمرے اور غوطہ خوری کی گھڑیاں ماسکو کے فٹ پاتھوں پر مغربی سیاحوں کو بیچ رہے تھے۔ اس مہلک نفسیاتی صدمے نے دسمبر 1994 میں روس کے فوجی غرور پر آخری گولی چلانے کی راہ ہموار کر دی: چیچنیا کی جنگ کا آغاز۔

یلتسن کے دور کے وزیر دفاع، پاول گراچیف (Pavel Grachev) نے ٹیلی ویژن کے اسکرین پر آکر مضحکہ خیز غرور کے ساتھ دعویٰ کیا کہ "وہ ایک پیراشوٹ رجمنٹ کے ساتھ دو گھنٹے میں گروزنی شہر پر قبضہ کر سکتا ہے"۔ لیکن جو کچھ 1995 کی نئے سال کی رات کو ہوا وہ ایک تاریخی قتل عام میں تبدیل ہو گیا۔ 131ویں مایکوپ بکتر بند بریگیڈ، پیدل فوج فوج اور معلوماتی پشت پناہی کے بغیر، گروزنی کی پیچیدہ گلیوں میں داخل ہو گیا۔ آر پی جی سے لیس چیچن جنگجوؤں نے چھتوں سے بکتر بند کالموں کو آگ لگا دی۔ روسی فوج کے ٹی-80 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں یکے بعد دیکرے پھٹتی گئیں اور سڑکیں 18 سالہ روسی فوجیوں کی بکھری لاشوں سے بھر گئیں جنہوں نے صحیح طریقے سے فائر کرنا بھی نہیں سیکھا تھا۔

جلے ہوئے ٹینکوں کے ملبے، ویڈیو ٹیپوں میں روسی فوجیوں کے کٹے ہوئے سر اور سر بریدہ لاشیں اور آخرکار 1996 میں "خاساویورت معاہدے" پر ذلت آمیز دستخطوں نے ـ جو عملاً باغیوں کو ڈی فیکٹو خودمختاری سونپ رہے تھے ـ نے ثابت کر دیا کہ روسی حکومت نہ صرف مغرب کو لگام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی، بلکہ قفقاز کی اپنی سرحدوں میں علاقائی سالمیت کے تحفظ سے بھی عہدہ برآ نہیں ہو سکتی۔ روس کے سیاسی و مذہبی فلسفی ایوان الین (Ivan Ilyin) کی تنبیہ ایک بار پھر روسی قوم کی آنکھوں کے سامنے سے گذری: "روس کو اندر سے ٹکڑے ٹکڑے کرنا، غیر ملکی پیسے اور اشتعال انگیزی سے"۔

2 | گروزنی کی دلدل سے پیوتن کے ظہور تک؛ مکتبِ وایمار اور روس کی انتقامی مشین کی پیدائش

وایماری فکر کی پیدائش؛ "زافترا" کی مورچوں سے دوگین کے نو یوریشیائی مانیفیسٹ تک

اسی تباہ کاری، تحقیر و تذلیل اور بے عزتی کے پس منظر میں ایک نیا بنیاد پرست فکری ردعمل پیدا ہؤا۔ بالکل اسی طرح جیسے وایمار دور میں جرمن قدامت پسند اشرافیہ نے "قدامت پسند انقلاب" کی تحریک (شپنگلر، یونگر اور اشمٹ) کی بنیاد رکھی تھی، روس میں بھی آرتھوڈوکس قوم پرستوں اور آرتھوڈوکس کمیونسٹوں کے درمیان "سرخ اور سفید اتحاد" کے نام سے ایک عجیب اور زیر زمین اتحاد قائم ہؤا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی سیف تبریزی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha