بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
• رہبر معظم نے تیسری جنگ کو "ابتدائی جہاد" قرار دیا؛ اس کا کیا مطلب ہے؟
- جہادِ ابتدائی (ابتدائی جہاد) دفاعی جہاد سے بالکل مختلف ہے۔ دفاعی جہاد میں جنگ کا مقصد نظام، جغرافیے اور عوام کا تحفظ ہوتا ہے۔ جنگ ہوتی ہے تاکہ خطرہ دور ہو۔ ممکن ہے آپ حفظ ما تقدم کے طور پر حملہ کریں، لیکن ایسا صرف دشمن کی [اس] سازش کا پتہ چلانے کے بعد ہی ممکن ہوگا، اور اس حملے کا مقصد یہ ہوگا کہ آپ اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کے اصل ماخذ [اڈے یا بیس] کو تباہ کرنا چاہیں۔ لیکن
- ابتدائی جہاد کا مقصد جنگ اسلام کا فروغ ہے۔ جب ہم کہتے ہیں "اسلام" تو اس کا مطلب "انقلاب اسلامی" ہے، یعنی کفر کے علاقے میں حق کی طرف ایک حقیقی عوامی تحریک۔ چنانچہ
- ابتدائی جہاد ایک ثقافتی-عسکری شناخت والا جہاد ہے جس میں نرم اور سخت طاقت آپس میں ملی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اس کے ثقافتی پہلو کا حوالہ دیتے ہوئے اسے "جہادِ دعوت" بھی کہا جاتا ہے۔
• ہم آٹھ سالہ جنگ کو دفاعی جنگ سمجھتے تھے
- ہم آٹھ سالہ جنگ کو مکمل طور پر دفاعی جہاد سمجھتے تھے؛ یہاں تک کہ جب ایران نے نے عراق کی سرزمین کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا تب بھی دفاعِ مقدس کی مثال تھی۔ لیکن
- ہمیں تیسری مسلط کردہ جنگ میں، دشمن کی جارحیت کا جواب دینا پڑ رہا ہے؛ چنانچہ یہ باعث حیرت ہے کہ رہبر معظم امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اس کو ابتدائی جنگ قرار دیا۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ یہاں ابتدائی جہاد سے آپ کا مطلب کیا ہے؟
- غور کیجئے کہ ابتدائی جہاد بیک وقت ردعمل اور دفاع بھی ہو سکتا ہے، یعنی آپ طاقت دکھاتے ہیں، لیکن جنگ شروع نہیں کرتے تاکہ مخالف فریق، شروع کرنے والا، ہو۔ اور آپ ردعمل اور دفاع کے طور پر جنگ میں داخل ہوتے ہیں۔
- یہ انداز معصومین (علیہم السلام) کی جنگوں کا ایک جانا پہچانا طرز جہاد رہا ہے۔
• اسلامی جمہوریہ ایران کا منصوبہ
- ایران برسوں سے مزاحمت اور مقاومت کا عملی نمونہ ہے۔ اس نے اپنی بات 'غلامی کی نفی' اور 'تسلط پسند عالمی نظام کے خلاف مزاحمت' کے لئے، دنیا تک پہنچائی ہے۔ آج
- اس بین الاقوامی نظام کی خباثت، جرائم پیشگی اور تسلط پسندی بھی آشکار ہو چکی ہے۔
- موجودہ عالمی نظام کے ساتھ ایران کے تعاون کا سبب بنے والے عالمی قوانین کو بھی، خود امریکہ اور اسرائیل نے، مکمل طور پر پامال کر دیا ہے،
- پہلا تیر بھی دشمن نے، ہمارے خیمے پر چلایا ہے، اور یوں اس نے جنگ شروع کرنے کا بہانہ ایران کو دے دیا ہے۔ اب
- ایران اس منصوبے کو عملی شکل دے رہا ہے جس پر اس نے طویل عرصے سے سوچا تھا۔
"دشمن کی طاقت کے ڈھانچے پر ایک کثیرالجہتی اور ہمہ گیر ضرب۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی مہدیان
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ