1 نومبر 2026 - 17:31
مغربی ایشیا کی نئی ترتیب / ایران کے بغیر کوئی علاقائی معاہدہ منعقد نہیں ہوگا، جنرل رضائی

اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل پاسدار ڈاکٹر محسن رضائی نے کل رات (ہفتہ، 31 اکتوبر) سرکاری ٹیلی وژن کے نیوز چینل کے ساتھ خصوصی گفتگو میں حالیہ 12 روزہ، 40 روزہ اور 17 روزہ جنگوں میں ایرانی قوم کی کامیابیوں اور امریکہ کی شدید شکستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: بہت سوں کے لئے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکی نہ صرف سلامتی پیدا کرنے والے نہیں بلکہ بدامنی کا محور ہیں۔ [۔۔۔]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل پاسدار ڈاکٹر محسن رضائی نے کل رات (ہفتہ، 31 اکتوبر) سرکاری ٹیلی وژن کے نیوز چینل کے ساتھ خصوصی گفتگو میں حالیہ 12 روزہ، 40 روزہ اور 17 روزہ جنگوں میں ایرانی قوم کی کامیابیوں اور امریکہ کی شدید شکستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: بہت سوں کے لئے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکی نہ صرف سلامتی پیدا کرنے والے نہیں بلکہ بدامنی کا محور ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل کی لبنان، شام، غزہ اور اردن پر غیر قانونی جارحیتوں نے ایرانی قوم کی کامیابیوں کے بعد ایک اہم سوال پیدا کر دیا ہے اور وہ یہ کہ خطے کی مستقبل کی ترتیب (New Regional Order) کیا ہوگی اور مغربی ایشیا کے ان 25 ممالک کے انتظام کے لئے سلامتی کے انتظامات کیسے اور کس بنیاد پر تشکیل پائیں گے؟

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل پاسدار ڈاکٹر محسن رضائی نے کہا:

نئی علاقائی ترتیب

سوال یہ ہے کہ خطے کی مستقبل کی ترتیب (New Regional Order) کیا ہوگی اور مغربی ایشیا کے ان 25 ممالک کے انتظام کے لئے سلامتی کے انتظامات کیسے اور کس بنیاد پر تشکیل پائیں گے؟

اس سوال کے ساتھ ساتھ ایک نیا تاثر بھی ابھر رہا ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر آنے والے سالوں میں خطے سے نکل جائے گا۔ جس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ امریکہ کی جگہ کون لے گا؛ کیا چین اور روس اس کی جگہ لیں گے؟ کیا اسرائیل امریکہ کے لئے ایک پراکسی بالادستی قائم کرے گا؟ یا خود خطے کے ممالک ایک نئی ترتیب تشکیل دیں گے؟

ادھر یہ دو انتہائی اہم سوال بھی درپیش ہیں کہ ایرانی قوم کی ان دو سال کی مزاحمت کی وجہ کیا ہے؟ اور امریکی کی شدید شکست اور اس کی زدپثیریوں کی وجہ کیا ہے؟؛ بہرحال ان سوالات کا جواب ایرانی قوم کی عظمت میں مضمر ہے، ایسی ایرانی قوم جو سپر پاورز کی تقدیر طے کرنے اور ان کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

دشمن ایرانی قوم کو ڈرانے کے درپے تھے، لیکن ایرانی قوم نے انہیں زوردار طمانچہ مارا؛ اس طرح کہ اس مزاحمت کے اثرات اور بعد کے جھٹکے پورے یورپ تک پھیل گئے۔

ایران کی موجودگی کے بغیر خطے میں سلامتی کا کوئی نظام قائم نہیں ہوگا

کئی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ ایک سرگرمی وہ ہے جو امریکہ کیوبائی نژاد وزیر خارجہ مارکو روبیو نے شروع کی اور اس نے اٹلی کا دورہ کیا اور عملاً برطانیہ کی قیادت میں یورپ کی مغربی ایشیا میں امریکہ کی جگہ دلانے کے عمل کا آغاز کیا۔

چین اور مشرق بعید اور ایشیا کے دیگر ممالک بھی کسی نہ کسی طرح اس خطے میں داخل ہونے کے خواہاں ہیں۔

خود ٹرمپ بھی خطے میں اسرائیل پر انحصار کے علاوہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ امریکہ کے دوست ممالک کو متبادل نظام قائم کرنا چاہئے۔ وہ معاہدے قائم کرنے کا خواہاں تھا، لیکن ان تمام کوششوں نے گذشتہ ایک دو سال میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ایرانی قوم کی آواز نہ سنی جائے تو کوئی معاہدہ قائم نہیں ہوگا اور کوئی اتحاد تشکیل نہیں پائے گا اور ہر نئے سلامتی انتظام میں ایران کو اس کا مقام دینا پڑے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha