اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسماعیل بقائی نے ابوظبی کے ولی عہد اور کینیڈا کے وزیراعظم کے مشترکہ بیان میں شامل متحدہ عرب امارات اور کینیڈا کے ایران کے تین جزائر سے متعلق دعووں کو سختی سے مسترد کیا۔
بقائی نے زور دے کر کہا کہ جزائر ابوموسیٰ، تنبِ بزرگ اور تنبِ کوچک ایران کی سرزمین کا ناقابلِ تقسیم اور ابدی حصہ ہیں۔ ان کے بقول، ان جزائر کے بارے میں بے بنیاد اور فرضی دعووں کی تکرار سے مسلمہ جغرافیائی، تاریخی اور قانونی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کینیڈا کی جانب سے اماراتی حکومت کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف علاقائی دعویٰ پیش کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کا یہ طرزِ عمل انتہائی کوتاہ اندیشانہ ہے، حالانکہ اسے خود امریکی حکمرانوں کی جانب سے علاقائی دعووں کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے، جس کے نتیجے میں کینیڈا کی ریاست پر بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اسماعیل بقائی نے اماراتی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ایک بڑے ہمسایہ ملک کے خلاف بے نتیجہ علاقائی دعوے دہرانے کے بجائے حسنِ ہمسائیگی کے اصول کی پابندی کرے۔
آپ کا تبصرہ