28 اکتوبر 2026 - 15:16
خطے کے حکام علماء کو سزا دینے کے بجائے صہیونیت اور استکبار کا مقابلہ کریں، آیت اللہ نوری ہمدانی

آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے خطے کی ریاستوں کے کئی علماء کو قید اور سزائے موت کی سزا دیئے جانے پر ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ان ریاستوں کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ علماء کے ساتھ بدسلوکی بند کریں اور اس کے بجائے استکبار اور صہیونیت کا مقابلہ اپنے ایجنڈے میں شامل کریں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عالم تشیّع کے مرجع تقلید، آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی (دامت برکاتہ) نے خطے کی ریاستوں میں کچھ علماء کے خلاف قید اور سزائے موت کے احکامات کے بعد ایک پیغام جاری کیا۔

پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی شہادت کے ایام کے سلسلے میں تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں۔

"عُلَماءُ شِيعَتِنا مُرابِطونَ بِالثَّغْرِ الَّذي يَلي إِبْليسَ وَعَفاريتَهُ، يَمْنَعونَهُم عَنِ الخُروجِ عَلى ضُعَفاءِ شِيعَتِنا، وَعَن أَنْ يَتَسَلَّطَ عَلَيهِم إِبْليسُ وَشِيعَتُهُ النَّواصِبُ؛

امام امام حسن عسکری (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "ہمارے شیعوں کے علماء سرحدوں کے محافظ ہیں جو عوام کے ایمان کی سرحدوں پر ابلیس اور اس کے دیووں کا مقابلہ کرتے ہیں، اور انہیں شیعہ ضعفاء پر یلغار کرنے سے باز رکھتے ہیں اور ہمارے پیروکاروں کو ابلیس اور اس کے ناپاک پیروکاروں کے تسلط سے محفوظ رکھتے ہیں۔"

یہ نورانی بیان، لوگوں کے ایمان کی حفاظت اور باطل محاذ کے سامنے ثابت قدمی میں علماء کے مقام و کردار کی یاد دہانی کراتا ہے۔ علماء کی ذمہ داری حق کا دفاع، ظلم و ستم کا مقابلہ اور اعتقادی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ اسی بنیاد پر، جہاں بھی ظلم ہو، علماء کی آواز بلند ہونی چاہئے اور دینی عقائد اور اپنے لوگوں کے حقوق کے دفاع کی راہ میں کوشش کرنے والے علماء پر کسی بھی قسم کی دست درازی قابل مذمت ہے۔

حال ہی میں خطے کے کچھ حکام نے حق و انصاف کی آواز خاموش کرنے کی غرض سے علماء کے خلاف ظالمانہ احکامات جاری کئے ہیں، جن میں قید اور سزائے موت جیسی سزائیں، شامل ہیں۔ یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ ایسے احکامات نہ صرف حق و انصاف کی آواز خاموش نہیں کرتے بلکہ بلکہ ان [احکامات] کے جاری کرنے والوں کے زوال اور بے اعتباری کا سبب بھی بنتے ہیں۔

ان ریاستوں کے حکام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان عاقبت نااندیشانہ اقدامات سے باز آئیں اور علماء کا مقابلہ کرنے کے بجائے، استکبار اور صہیونیت کے خلاف ـ جو اسلام کی جڑیں کاٹنے کے درپے ہیں ـ جدوجہد میں، ان [علماء] کا ساتھ دیں۔

ہم اللہ تعالیٰ کے درگاہ سے اسلام کی عزت و سربلندی، مظلوم علماء کی نصرت اور ظالموں کی اسیری سے ان کی رہائی کی التجا کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت جسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha