خبر رساں ادارے اہل بیت(ع) ـ ابنا کے مطابق، عراق کی اسلامی مزاحمت نے ایران کے ساتھ ہوائی اڈوں اور سرحدی گزرگاہوں کو بند کرنے کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات امریکی ارادے اور ہدایات کا نتیجہ ہیں۔ گروپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے خلاف صہیونی-امریکی جارحیت حق و باطل کے محاذ کے درمیان معرکہ آرائی ہے۔
عراق کی اسلامی مزاحمت نے کہا کہ شر کی قوتوں کے مقابلے میں حق کے محاذ کے ساتھ کھڑا ہونا ایک ایسا فریضہ ہے جس کا تقاضا انسانی فطرتِ سلیم کرتی ہے۔
گروپ نے عراق کی قومی خودمختاری کی تکمیل کا معاملہ ایسے وقت میں اٹھائے جانے پر بھی تنقید کی جب ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور قومی فیصلوں کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نے اسے عراقی عوام کی عزت اور ان کی آزادانہ رائے پر حملہ قرار دیا۔
عراق کی اسلامی مزاحمت نے سوال اٹھایا کہ ایسے ملک کی خودمختاری کی بات کیسے کی جا سکتی ہے جس کے فیصلے بیرونی طاقتوں کی جانب سے محدود کیے جا رہے ہوں اور یہ عمل قومی فیصلہ سازی کی آزادی کی قیمت پر امریکی تسلط کو مضبوط اور اس کے اثر و رسوخ کو وسیع کر رہا ہو۔
بیان میں امریکہ کی جانب سے عراق کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزی اور عراقی حکومت کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ رواں سال 30 ستمبر سے 23 اکتوبر کے درمیان جنگی اور جاسوس طیاروں کے ذریعے فضائی حدود کی خلاف ورزی کے 171 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
عراق کی اسلامی مزاحمت نے ان واقعات کو معاہدوں اور ان سے متعلق ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات معاہدوں میں فریقین کے لیے مقرر کردہ ذمہ داریوں سے متصادم ہیں۔
گروپ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ عراقی حکومت اخلاقی طور پر پابند ہے کہ وہ عوام کو ملک میں جاری واقعات کی حقیقت سے آگاہ کرے۔
آپ کا تبصرہ