اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے سربراہِ عدلیہ حجۃ الاسلام والمسلمین محسن اژهای نے رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ انصاف کی فراہمی، عوامی حقوق کے تحفظ اور بدعنوانی اور اس کے بنیادی اسباب کے خلاف مؤثر کارروائی کے ذریعے نظام پر عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
اس موقع پر مقدمات کی تیز رفتار، محتاط اور فیصلہ کن سماعت، عدالتی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد اور ایسے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا جو جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوں۔ عدالتی نظام میں جامع اور عملی تبدیلیاں لانے اور اہم امور میں جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے پر بھی تاکید کی گئی۔
ملاقات میں قوانین پر درست عمل درآمد کی نگرانی، مسلسل معائنوں، سرکاری اداروں اور تنظیموں کے انتظامی امور میں بہتری کے لیے معاونت اور ایسے افعال یا فرائض سے غفلت کے معاملات کی پیروی پر زور دیا گیا جو جرم کا سبب بنتے ہیں۔
جرائم کے خلاف فیصلہ کن کارروائی، خلاف ورزیوں کے اسباب کے خاتمے اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے مؤثر حکمت عملی تیار کرنے کو بھی ضروری قرار دیا گیا۔
ملاقات میں امریکی اور صہیونی مجرموں کے جرائم کے نتیجے میں ہونے والے مادی اور معنوی نقصانات اور حقوق کی وصولی کے لیے سنجیدہ کوششوں پر بھی زور دیا گیا۔
ملاقات کے آغاز میں محسن اژهای نے عدلیہ کے نئے دور کے منصوبوں کے بارے میں رہبرِ انقلاب کو رپورٹ پیش کی۔ ان منصوبوں میں عدالتی اصلاحات کی دستاویز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور عدالتی امور کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل اور خودکار بنانا شامل ہے۔
ان اقدامات کا مقصد مقدمات کی سماعت میں لگنے والا وقت اور اخراجات کم کرنا، عدالتی فیصلوں کے معیار اور استحکام کو بہتر بنانا اور عدلیہ کے اہلکاروں کی دیانت داری اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
آپ کا تبصرہ