اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکا نے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ ریاض کی جانب سے یورینیم کی آزادانہ افزودگی کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش دونوں ممالک کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے، جسے معاہدہ 123 کہا جاتا ہے، کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ اس سے واشنگٹن اور ریاض کے درمیان جوہری تعاون ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے شعبۂ دفاعی جوہری عدم پھیلاؤ کے نائب ڈائریکٹر میتھیو ناپولی نے کارنیگی فاؤنڈیشن میں خطاب کرتے ہوئے یہ انتباہ جاری کیا۔
ناپولی نے زور دیا کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے سخت معیارات کی پابندی، سعودی عرب کے ساتھ امریکی جوہری تعاون جاری رکھنے کے لیے بنیادی شرط ہے۔ ان کے بقول، اگر سعودی عرب نے اپنی آزادانہ افزودگی کی صلاحیت قائم کرنے کی کوشش کی تو یہ امریکا کے ساتھ معاہدہ 123 کی خلاف ورزی ہوگی اور دونوں ممالک کے تعاون کو خطرے میں ڈال دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق، اس معاہدے کے تحت واشنگٹن کو سعودی عرب کے جوہری پروگرام کی نگرانی کے خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ جامع حفاظتی معاہدے کی خلاف ورزی یا امریکی نگرانی کے طریقۂ کار سے انحراف کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان ہر قسم کا جوہری تعاون فوری طور پر روک دیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جولائی کے اواخر میں سعودی حکومت کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنیوں کو 30 سال تک سعودی عرب کے جوہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔
معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری لازمی نہیں، تاہم قانون سازوں کے جائزے اور رائے دینے کے لیے مقررہ 90 روزہ مدت مکمل ہونے سے پہلے یہ نافذ العمل نہیں ہوگا۔ اس دوران کانگریس کے ارکان کو معاہدے کی شقوں کا جائزہ لینے اور اس پر عمل درآمد روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔
ٹرمپ نے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون کو آگے بڑھانے کا انحصار اس ملک کی جانب سے ’’ابراہیم معاہدوں‘‘ میں شمولیت اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر ہے۔ تاہم، امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے دستخط شدہ جوہری معاہدے میں تعلقات معمول پر لانے کی یہ شرط شامل نہیں کی گئی۔
دوسری جانب، امریکی ڈیموکریٹ سینیٹرز جیف مرکلی اور ایڈ مارکی اس سے قبل سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے پر عمل درآمد روکنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کر چکے ہیں۔ ان کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ معاہدے میں اس بات کی روک تھام کے لیے کافی ضمانتیں موجود نہیں کہ امریکی ٹیکنالوجی کو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بھی پہلے رپورٹ کیا تھا کہ مزید جائزوں کے بعد یہ معاہدہ سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی سطح 20 فیصد تک بڑھانے کا امکان فراہم کر سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ