اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کی شیعہ علما کونسل کے سربراہ آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے ایک بیان میں اسلامی امت کے اتحاد اور بھائی چارے پر زور دیتے ہوئے اختلافات سے گریز کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اسلامی ممالک کی مشترکہ کوششوں کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی ماحول کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کے اتحاد کو مضبوط بنانے، سفارتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور علاقائی بحرانوں کے خاتمے کے لیے اسلامی ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہییں۔
پاکستان کی شیعہ علما کونسل کے سربراہ نے مسلمانوں کے درمیان عقیدے اور بھائی چارے کے رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی امت ایک جسم کی مانند ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ (ص)، خاتم النبیین، کے پیروکار آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اس لیے موجودہ بحرانی صورت حال کا خاتمہ اور اسلامی امت کے مقام کو مضبوط بنانا اسلامی ممالک اور ذمہ دار شخصیات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو ایک بار پھر فعال اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے اختلافات کے حل، کشیدگی میں کمی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔
انقلابِ اسلامی کے رہبر اور شیخ الازہر کی امن کوششیں امید افزا ہیں
سید ساجد علی نقوی نے علاقائی صورت حال اور ایران کے رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور مصر کی جامعہ ازہر کے شیخ ڈاکٹر احمد الطیب کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے امن، ثالثی اور مصالحت کے حوالے سے ان کی تجاویز اور کوششوں کو امید افزا اور تعمیری قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے، کشیدگی کم کرنے، اقتصادی مشکلات کا مقابلہ کرنے اور خطے کے ممالک کے درمیان ترقی و تعاون کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم، ان مقاصد کے حصول کے لیے سنجیدہ فیصلوں اور فوری عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی شیعہ علما کونسل کے سربراہ نے ثالثی کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی تجاویز اور فوری طور پر ثالثی و مصالحتی کمیٹی تشکیل دینے کے حوالے سے شیخ الازہر کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے ان امکانات سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مخلص، دوراندیش، دانش مند اور امن پسند شخصیات پر مشتمل ایسی کمیٹی فریقین کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرسکتی ہے اور اختلافات کم کرنے اور پُرامن حل تک پہنچنے کے لیے مؤثر قدم ثابت ہوسکتی ہے۔
سید ساجد علی نقوی نے قرآن کریم کے اس دائمی پیغام کا حوالہ دیا جس میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی امت کو اختلافات ایک طرف رکھ کر تنازعات کو ہوا دینے سے گریز کرنا چاہیے اور بھائی چارے، باہمی مفاہمت اور ایک دوسرے کے احترام کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کے مطابق، اسلامی دنیا کی عزت، ترقی اور قوت کا انحصار مسلمانوں کے اتحاد اور اسلامی ممالک کے مخلصانہ تعاون پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ نازک حالات میں اسلامی ممالک کو پہلے سے بڑھ کر باہمی ہم آہنگی، مذاکرات اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی ضرورت ہے، تاکہ اختلافات سے نکل کر مشترکہ چیلنجوں کے مقابلے میں ہم آہنگ مؤقف اختیار کیا جاسکے۔
سید ساجد علی نقوی نے امن کی کوششوں میں پاکستان کے پیش قدمی کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا ایک اہم ملک ہے اور جوہری صلاحیت کا حامل ہونے کے باعث کشیدگی کم کرنے، مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور علاقائی استحکام مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں اور مختلف فریقوں کا اعتماد حاصل کرنے کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو فعال اور ذمہ دارانہ حکمت عملی اپنانی چاہیے اور مختلف مؤقف رکھنے والے فریقوں کو قریب لانے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور باہمی اتفاق سے قابلِ قبول حل تلاش کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہییں۔
پاکستان کی شیعہ علما کونسل کے سربراہ نے علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کے سابقہ کردار کو یاد کرتے ہوئے اس تعمیری طرزِ عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور ثالثی و امن کے قیام کے لیے پاکستان سے زیادہ سنجیدہ ذمہ داری ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے نتائج صرف لڑائی میں کمی اور علاقائی سلامتی کے استحکام تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ان سے خطے کے ممالک کی معیشتوں پر کشیدگی کے منفی اثرات بھی کم ہوسکتے ہیں، باہمی تعاون کو فروغ مل سکتا ہے اور ترقی و پیش رفت کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
سید ساجد علی نقوی نے آخر میں موجودہ بحران پر قابو پانے کے لیے تمام دستیاب امکانات سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کشیدگی بڑھانے والے بیانات اور اشتعال انگیز مؤقف سے گریز، دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں ہوشیاری اور اختلافات کو مزید بڑھنے سے روکنے کو ضروری قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد، باہمی مفاہمت، مذاکرات اور سفارتی حل پر توجہ دینی چاہیے۔ اسلامی ممالک کا تعاون، باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا اور امن کی کوششوں کی حمایت موجودہ بحرانوں سے نکلنے کی راہ ہموار کرسکتی ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام میں مدد دے سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ