اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی جنگ اور اس میں عراق کے کردار کے بارے میں عراقی اہل سنت کی سیاسی قوتوں کے درمیان مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ان کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ عراق کی سرزمین پر موجود امریکی مفادات کو فوجی طور پر نشانہ بنانے کا ایران کو کس حد تک حق حاصل ہے، مسلح مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیاں کس حد تک جائز ہیں، جنگ اور امن کے فیصلے کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے اور واشنگٹن و تہران کے ساتھ تعلقات کیسے رکھے جائیں۔ اس کے علاوہ عراق میں ایران کے اثر و رسوخ میں اضافے یا کمی کے ملکی طاقت کے توازن پر پڑنے والے اثرات بھی اختلاف کا سبب ہیں۔
پارلیمانی جماعت ’’عزم‘‘ کی رکن نہال الشمری کا کہنا ہے کہ جنگ کے بارے میں مؤقف قومی مفادات کو سامنے رکھ کر اختیار کیا جانا چاہیے اور اسے فرقہ وارانہ یا مذہبی بنیادوں پر تقسیم سے دور رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اخبار ’’الاخبار‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس جنگ کے خطے کی سیاسی، سلامتی اور معاشی صورت حال پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
الشمری نے زور دیا کہ عراق کی سرزمین اور فضائی حدود کو بالواسطہ جنگ کا میدان نہیں بننے دینا چاہیے۔ ان کے مطابق، علاقائی کشیدگی میں اضافے کے دوران عراقی عوام کی سلامتی، ملک کے استحکام اور قومی مفادات کا تحفظ بنیادی ترجیح ہونی چاہیے۔
ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں الشمری کا مؤقف ہے کہ اس کے ساتھ ایک پڑوسی ملک کی حیثیت سے معاملات کیے جانے چاہییں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، سماجی، تجارتی اور سیاسی روابط موجود ہیں۔ تاہم، ان تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت ہونی چاہیے۔
عراق کی سرزمین پر ایران کے فوجی جواب کے حق سے متعلق بات کرتے ہوئے الشمری نے اپنے دفاع اور دوسرے ملک کی سرزمین کو فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کے درمیان فرق واضح کیا۔ ان کے مطابق، کسی ملک میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اس بات کا جواز نہیں بن سکتی کہ اس ملک کو نشانہ بنایا جائے یا اس کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کی جائے۔
دوسری جانب، ’’سیادہ‘‘ نامی سیاسی اتحاد سے وابستہ صلاح الکبیسی کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں عراقی اہل سنت کا بنیادی مؤقف معاشرے کے دیگر طبقات سے مختلف نہیں، کیونکہ وہ بھی خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے مخالف ہیں۔
انہوں نے اخبار ’’الاخبار‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق جنگ کے سیاسی، سلامتی اور معاشی اثرات سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔ اس صورت حال میں ضروری ہے کہ عراقی حکومت کے تعاون سے سیاسی اور سفارتی کوششیں کی جائیں تاکہ جنگ کا دائرہ وسیع ہونے سے روکا جا سکے۔ الکبیسی کے مطابق، بیرونی دنیا کے سامنے عراق کے سرکاری مؤقف اور سیاسی پیغامات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
ایران کے بارے میں اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے الکبیسی نے تہران اور بغداد کے درمیان جغرافیائی، تاریخی اور مذہبی روابط کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد اور عوام کے درمیان گہرے سماجی تعلقات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سیاسی اختلافات کے باوجود دوطرفہ روابط برقرار رکھے جائیں۔
الکبیسی نے ان عرب ممالک کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی مخالفت کی جو خلیج فارس کے ساحل پر واقع ہیں اور جنگ میں شریک نہیں ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ کو نہ تو مزید علاقوں تک پھیلانے اور نہ ہی اس کا دورانیہ بڑھانے کی اپیل کی۔
عراقی اہل سنت میں جنگ اور ایران کے اثر و رسوخ کے بارے میں تین رجحانات
سیاسی اور علاقائی امور کے محقق سیف السعدی نے ایران کے خلاف جنگ اور اس کے عراق پر اثرات کے حوالے سے عراقی اہل سنت میں تین مختلف رجحانات کی نشاندہی کی ہے۔
ان کے مطابق، پہلے رجحان کے حامی ایران کے ساتھ ایک پڑوسی ملک کی حیثیت سے تعلقات برقرار رکھنے کے حق میں ہیں، لیکن وہ اس بات کے مخالف ہیں کہ عراق ایسی جنگ کا فریق بن جائے جس کا فیصلہ کرنے یا اس کے مقاصد طے کرنے میں اس کا کوئی اختیار نہ ہو۔
دوسرے رجحان سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ ایران کے اثر و رسوخ میں کمی عراق کی بعض سنی سیاسی قوتوں کے مفاد میں ہو سکتی ہے۔ اس سوچ کی بنیاد یہ تصور ہے کہ تہران ایسے مسلح گروہوں اور بااثر قوتوں کی حمایت کرتا ہے جو سرکاری اداروں کے دائرے سے باہر کام کرتی ہیں۔ ان کی حمایت عراق کے اندر طاقت اور سیاسی اثر و رسوخ کے توازن پر اثر انداز ہوتی ہے۔
السعدی کے مطابق، تیسرے رجحان میں بعض سنی علمائے دین اور نظریاتی سوچ رکھنے والی شخصیات شامل ہیں جو ایران کے مؤقف کی حمایت کی طرف مائل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے بارے میں سیاسی مؤقف ہمیشہ براہِ راست مفادات کے حساب کتاب کی بنیاد پر نہیں بنتا، بلکہ نظریاتی سوچ اور سیاسی و علاقائی تعلقات بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مزاحمت کی تعریف اور اس کے جواز پر اختلاف
اختلافات صرف ایران کے بارے میں مؤقف تک محدود نہیں، بلکہ مزاحمت کی تعریف اور موجودہ حالات میں اس کی قانونی و سیاسی حیثیت کے معاملے تک بھی پھیلے ہوئے ہیں۔
السعدی نے یاد دلایا کہ 2003ء کے بعد ابتدائی برسوں میں عراق کے سنی اکثریتی صوبوں میں امریکی افواج کے خلاف مزاحمت ہوئی تھی۔ انہوں نے فلوجہ، رمادی، حدیثہ، صلاح الدین، موصل اور عراق کے دوسرے علاقوں میں ہونے والی لڑائیوں کا حوالہ دیا۔
ان واقعات کی روشنی میں السعدی نے دو باتوں کے درمیان فرق واضح کیا: ایک طرف قبضے کے خلاف مزاحمت کی مخالفت اور دوسری طرف مزاحمت کے حق کو کسی ایک گروہ یا طبقے تک محدود کرنے کی مخالفت۔
تاہم، السعدی نے ایسے مسلح گروہوں کی کارروائیوں کے جواز پر بھی سوالات اٹھائے جو عراقی حکومت کے باضابطہ فیصلے کے بغیر فوجی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس معاملے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ عراق کے مختلف سیاسی اور سلامتی کے ادوار میں امریکی فوجی موجودگی اور اس کے مشن کی نوعیت کے بارے میں یکساں مؤقف نہیں رہا۔
آپ کا تبصرہ