بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے امریکہ کی جانب سے کوئی نیا تنازع شروع کرنے کی صلاحیت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا: "ہمارے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ یقیناً ایسی پوزیشن میں نہیں ہے کہ کوئی نیا تنازع شروع کرے اور اس سے کوئی نیا فائدہ حاصل کر سکے۔"
انھوں نے مزید کہا: "ماضی میں، امریکہ نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ کارروائیاں کی؛ جس میں اچھی طرح سے لیس فوجی اڈے، بڑی مقدار میں عسکری سازوسامان، اور تازہ دم اور جنگ کے لئے مستعد فوجی دستے شامل تھے۔ اس کے باوجود، وہ نہ صرف اپنے کسی بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا، بلکہ اسے نمایاں اسٹریٹجک شکستوں کا بھی سامنا کرنا پڑا؛ جن میں سے ایک 'آبنائے ہرمز' کی بندش ہے؛ ایک ایسا آبنائے جسے امریکہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود دوبارہ کھولنے میں شکست کھا گیا ہے۔"
امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے تقریباً 800 کلومیٹر پسپا ہو گئے ہیں
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے نشاندہی کی: "امریکہ کے پاس اب وہ وسائل (اثاثے) نہیں رہے جو کبھی ہؤا کرتے تھے، اور نہ ہی وہ ان فوجی اڈوں کو اس طرح استعمال کر سکتا ہے جیسے ماضی میں کرتا تھا۔"
انھوں نے کہا: "خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں میں سے بیشتر غیر فعال ہو چکے ہیں، اور ان کا سازوسامان بھی بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔ مزید برآں، وہ ممالک جو پہلے امریکہ کے قریبی اتحادی تھے، اب واشنگٹن کے ساتھ پہلے جیسا تعاون نہیں رکھتے۔"
انھوں نے مزید کہا: "امریکی افواج اب تھک ہار چکی ہیں اور نڈھال ہیں، اور وہ پسپا ہوکر ہم سے سینکڑوں کلومیٹر دور تک پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے، خلیج فارس میں ان کے کم از کم 30 سے 40 جنگی جہاز موجود تھے؛ تاہم اب، وہاں کوئی جہاز موجود نہیں ہے؛ وہ خلیج فارس میں نہیں ہیں؛ درحقیقت، وہ آبنائے ہرمز سے تقریباً 800 کلومیٹر دور چلے گئے ہیں۔"
انھوں نے کہا: "وہ افواج، جو پہلے خطے کے مختلف اڈوں پر تعینات تھیں، اب انہیں مزید دور افتادہ اڈوں پر منتقل کر دیا گیا ہے؛ لیکن وہاں بھی وہ محفوظ نہیں ہیں۔ انہیں میں اردن کے "الازرق" اڈے اور اور شام میں واقع "التنف" اڈے میں منتقل کیا گیا لیکن وہ اڈے بھی ہماری بھاری کاروائیوں کی زد میں آئے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ