اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عمان کے مفتیِ اعظم شیخ احمد بن حمد الخلیلی کو اسرائیلی قبضے اور فلسطین کے مسئلے پر اپنے مؤقف کے باعث اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی تنقید اور اشتعال انگیزی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی ٹیلی وژن کے چینل 11 نے دعویٰ کیا ہے کہ مفتیِ اعظم عمان اسرائیل پر تنقید کرنے اور اس کے مخالفین کی حمایت کا اعلان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
الخلیلی نے گزشتہ مئی میں عالمی صمود بحری بیڑے میں شامل عمانی شرکا سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ اس بحری مہم نے دنیا بھر میں ردعمل پیدا کیا ہے اور اس کے نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
انہوں نے جون میں بھی غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے کے مقصد سے بحری قافلوں کو جاری رکھنے اور ان کا دائرہ وسیع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عوامی اور عالمی سرگرمیوں نے ثابت کیا ہے کہ ایسے اقدامات اثرانداز ہونے اور دنیا کی رائے عامہ کی توجہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
الخلیلی نے اس سے قبل مارچ میں بھی اسرائیلی جارحیت پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے مسجد الاقصیٰ کو بند کرنے اور فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات پر اسلامی ممالک کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ستمبر میں بھی ان کا یہی مؤقف برقرار رہا، جب انہوں نے یمن، فلسطین، لبنان اور ایران کی صورت حال کے بارے میں ایک بیان جاری کیا۔
الخلیلی نے اس بیان میں صنعا کے بارے میں بعض مسلم علما کے بیانات پر تنقید کی اور زور دیا کہ ترجیح بدستور اسرائیلی قبضے کے خلاف جدوجہد ہونی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ