بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یہاں تک کہ ہنٹنگٹن کا وہی نظریہ بھی عملی طور پر ایک شدید شکست سے دوچار ہؤا اور امریکہ کو 2000ع کی دہائی میں اسلامی خطے پر یلغار کی ترغیب دلائی؛ اور اس کا انجام جنگ اور پھر عراق اور افغانستان سے ذلت آمیز انخلا کی صورت میں نکلا، اور اس پیشرفت نے خطے میں امریکہ کے روایتی اثر و رسوخ اور کردار کو کمزور کر دیا۔
حمایت کی بھیک، تاریخ میں تحریف کی چاشنی کے ساتھ
روبیو اور اس کے باس ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ میں یورپیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن روبیو کے اس بیان کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس نے کوئی نیا، خام، ناپختہ اور سطحی نظریہ پیش کیا ہے جسے مغرب میں کوئی سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کی جنگ کو خیر اور شرّ کے باہمی تصادم کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، اور خود کو خیر کے مقام پر اور ایران کو برائی کے مقام پر کھڑا کرنا چاہتا ہے! اور مقصد کے حصول کے لئے مغربی تہذیب کی اساطیری اخلاقیات کی بنیادوں کو نمایآں کرنا چاہتا تاکہ ایرانیوں کو اس کے مخالف محاذ میں کھڑا کیا جائے۔
روبیو کی اس تصویر کشی میں، ایران ایک جارح ہے جو موقع ملتے ہی مغرب کی بنیادیں جلا دیتا ہے اور تہذیبی اخلاقیات کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایک بڑی برائی جس پر اگر قابو نہ پایا جائے تو اچھائی کو برباد کر دیتی ہے۔
اس تصویر میں روبیو کے ہاں ایران کا مسئلہ، اس ملک کے مقابلے میں اپنا [یعنی مغربی تہذیب کا] دفاع نہیں، بلکہ ایران کو جارح کے مقام پر کھڑا کرنا ہے؛ وہی مقام جس پر امریکہ اس وقت خود کھڑا ہے۔ ٹرمپ کا امریکہ بھی اپنے بزعم اپنی مرضی کی پیشگی جنگ کے ذریعے ایران کو جوہری مرحلے تک پہنچنے سے روک رہا ہے تاکہ ـ اس کے بیان کے مطابق ـ 'تہذیب یافتہ مغرب' کے زوال اور خاتمے کا عمل روک لیا جائے! لیکن
روبیو اور ٹرمپ کی طرف سے، مغرب کے لئے اس طرح کا بیانیہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ یورپیوں کو نہ صرف امریکہ کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ انہیں بچا لیا گیا، بلکہ ساتھی بھی بننا چاہئے تاکہ یہ نجات کی کارروائی ـ جو مغرب کی نہیں امریکہ کی نجات کے لئے ہے ـ مکمل ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تکمیل و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ