بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || چین کے فوجی اور تزویراتی امور کے تجزیہ کار 'وی دونگ شو' نے چین کے سی سی ٹی وی نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ لڑائی سرد جنگ کے بعد سے امریکی فوج کے بھاری، جدید اور مہنگے سازوسامان اور ہتھیاروں کو پہنچنے والا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ بھاری نقصان ہے؛ امریکی کانگریس سے وابستہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے امریکی فوج کے کم از کم کے 81 سے زائد ہوائی جہازوں کو تباہ کیا ہے یا نقصان پہنچایا ہے اور پینٹاگون کی شدید پردہ پوشی اور کانگریس کے نمائندوں کو امریکی اڈوں میں داخلے سے روکنا اس مقصد کے لئے ہے کہ اگر ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر لیک ہو جائیں تو وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی عزت و وقار کو شدید نقصان پہنچے گا۔
میزبان: دوسرا تضاد ہم دیکھ رہے ہیں، اس کا تعلق ایران کے ساتھ امریکی جنگ کے بارے میں مختلف جائزوں سے ہے۔ ایک گہری دراڑ اور اختلاف رائے، جو دو جماعتوں ـ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز ـ کے درمیان تشکیل پایا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ کا دعوی ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی بہت غیر معمولی اور کامیاب رہی ہے۔ لیکن اس کے برعکس، ہم نے دیکھا کہ ڈیموکریٹ جماعت کے ایک رہنما نے قطر کے دورے کے موقع پر اعلان کیا کہ پینٹاگون نے انہیں خطے میں ایک امریکی اڈے میں انہیں داخل نہیں ہونے دیا ہے۔
انھوں نے اس اقدام سے یہ نتیجہ لیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے میدانی نتائج اور جنگ کے حقائق کے سلسلے میں پردہ پوشی سے کام لیا جا رہا ہے۔ اس رویے کے بارے میں آپ کا جائزہ کیا ہے؟
وی دونگ شو: مغربی ایشیا میں فوجی کاروائیوں کے بارے میں، یہ ناممکن ہے کہ ٹرمپ شکست یا کامیابی کے حصول میں بے بسی کا اعتراف کرے۔ وہ ہمیشہ مجبور ہے کہ خود کو ایک مضبوط دکھائے اور مضبوط موقف کا اعلان کرے۔
یہ رویہ دو خاص تحفظات سے جنم لیتا ہے جیسا کہ ٹرمپ سمجھتا ہے کہ امریکی فوج کی عسکری کاروائی نے اس کے اعلان کردہ مقاصد کو کسی حد تک یقینی بنایا ہے! علاوہ ازیں، وہ کبھی کبھی ایران کے خلاف شدید قسم کا موقف اختیار کرتا ہے، تاکہ [دنیا والوں کو] کٹرپن اور طاقت کا پیغام بھیج دے۔ یہ وہ رویہ ہے جو مشرق وسطیٰ میں فوجی کاروائیوں کے بارے میں اس کے سابقہ موقف سے مطابقت رکھتا ہے۔
اسی اثناء میں وہ اس قسم کے موقف کے ذریعے کوشش کرتا ہے کہ امریکہ کی اندرونی رائے عامہ کو زیر اثر لا سکے اور رائے عامہ کو اپنی سمت میں آگے بڑھا سکے، رائے عامہ کو سمت دینے اور اپنی ایک مضبوط تصویر پیش کرنے کے لئے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آپریشن ـ جس کو وہ ایپک فیوری کا نام دیتا ہے، سرد جنگ سے اب تک، امریکہ کے لئے، ـ انتہائی مہنگے اور جدید فوجی وسائل اور سازو سامان کی تباہی کا میدان بنا یا یہ کہ انتہائی نقصان دہ آپریشن تھا۔
ہم یہ کیوں کہتے ہیں؟ اس لئے کہ امریکی کانگریس سے منسلک اداروں نے ایک رپورٹ شائع کی ہے کہ 81 سے زائد امریکی طیارے ایرانوں کے ہاتھوں تباہ ہو چکے ہیں یا نقصان سے دوچار ہوئے ہیں۔
علاوہ ازیں، ان مہنگے امریکی طیاروں میں بہت سے مشرق وسطیٰ ـ بشمول سعودی عرب، اور قطر ـ میں رن ویز پر ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنے ہیں، تباہ ہوئے ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔
چنانچہ سمجھا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے متعدد اڈے نقصان اور بھاری تباہی سے دوچار ہوئے ہیں۔
مثال کے طور پر، بعض تنصیبات کھنڈر بن گئی ہیں؛ اور حتیٰ کہ امریکہ کے تباہ شدہ یا نقصان سے دوچار ہونے والے ہتھیاروں کے لاشے ابھی تک ان اڈوں سے نہیں نکالے جا سکے ہیں۔
اب اگر کانگریس کے کچھ اراکین یا دوسرے افراد ان بیرونی امریکی اڈوں میں داخل ہوجائیں اور ان کی ویڈیو یا تصاویر بنائیں اور یہ تصاویر ورچوئل اسپیس تک پہنچ جائیں، تو اس سے پینٹاگون کی بے عزتی ہوگی اور ان کی ساکھ و آبرو کو دھچکا لگے گا۔
کسی کی ساکھ کو مجروح کرنا
اس کے علاوہ، اس طرح کی ویڈیوز اور تصاویر ایران کی طرف سے ابلاغیاتی، تشہیری اور نفسیاتی جنگ کے اوزاروں کے طور پر بروئے کار لایا جائے۔
چنانچہ، فی الحال مشرق وسطیٰ کے امریکی اڈوں میں انفارمیشن سیکورٹی اور سیکورٹی کلاسیفیکیشن کی سطح بہت اوپر ہے؛ تاکہ اندرونی نقصانات کے بارے میں معلومات باہر نہ جا سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ