بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عسکری اور سیاسی شعبے کے معروف تجزیہ کار، اردنی میجر جنرل محمد الصمادی نے قطر کے العربی ٹی وی چینل پر ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "اگر ایران نے شمالی کوریا کی طرح عمل نہیں کیا ہو، تو ممکن ہے کہ اس نے ایک تزویری غلطی کا ارتکاب کیا ہو!
انھو ں نے کہا: / ایران جوہری ہتھیار کے ساتھ خطے کے ممالک کو دھمکی نہیں دیتا؛ ایسا ہتھیار ہر ملک کے لئے دفاعی ڈھال کا کردار ادا کرتا ہے۔
میزبان: میجر جنرل محمد الصمادی! کیا ممکن ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات ـ جو ٹرمپ کے بقول گذشتہ سال اور اس سال کے آغاز کے حملوں میں تباہ ہو چکے تھے ـ کو دوبارہ نشانہ بنایا جائے، بالخصوص اس لئے کہ لگتا ہے ایران اپنی صلاحیتوں اور پروگراموں کی تعمیر نو میں مصروف ہے؟
میجر جنرل صماد محمد الصمادی: بہت زیادہ امکان ہے کہ جوہری تنصیبات اہداف کی فہرست میں ہوں۔ واضح ہؤا ہے کہ امریکی بیانیہ درست نہیں تھا اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔ ٹرمپ ابھی تک جنگ کے اہداف میں سے کوئی ایک ہدف بھی حاصل نہیں کر سکا ہے۔
چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ امریکی کی اندرونی رائے عامہ کے سامنے، خود کو فاتح کے طور پر پیش کرنے کے لئے کوشاں ہے؛ لیکن اس کے مقابلے میں اس کا ارادہ ہے کہ تسدید (ڈیٹرنس) کا توازن بدل دے اور ایران کی جوابی کاروائیوں کی صلاحیت کو ختم کردے۔ ایران کا جوہری پروگرام ممکنہ اہداف میں سے ایک ہے۔
میرا خیال ہے کہ اگر ایران نے شمالی کوریا کی طرح عمل نہ کیا ہو تو ممکن ہے کہ تزویراتی غلطی کا مرتکب ہؤا ہو!۔
میزبان: یعنی جوہری ہتھیار بنا لے؟
الصمادی: جی ہاں! جوہری ہتھیار۔ ایران جوہری ہتھیاروں سے خطے کے ممالک کے لئے خطرے کا باعث نہیں بنتا؛ لیکن اس طرح کا ہتھیار کسی بھی ملک کے لئے دفاعی ڈھال ہے۔
کیا جوہری ہتھیار اسرائیل میں، ـ جو پڑوسیوں پر حملہ کرتا ہے، اور دھمکی دیتا ہے کہ پڑوسی ممالک پر قبضہ کرے گا اور 'عظیم تر اسرائیل' کا نقشہ پیش کرتا ہے ـ ایک جائز اقدام ہے؛ اور ایران کے ہاں کا پرامن جوہری پروگرام ناجائز سمجھا جاتا ہے؟
یہ ٹرمپ کے وہی دوہرے معیار اور ٹرمپی تفکر ہے۔ مغربی دنیا میں، غیر منصفانہ حکمت عملیاں (strategies) اور افکار موجود ہیں اور وہ دوسروں کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتے۔ چنانچہ، غالب منطق، طاقت کی منطق ہے: جس کے پاس طاقت ہو، وہ اپنے حقوق کا دفاع کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود، کہہ سکتا ہوں کہ ایران کی جوہری تنصیبات حملے کے اہداف کی فہرست میں شامل ہونگی۔
میزبان: ڈآکٹر رُویوَرَان، ایران کا نظام حکومت کس وقت تک اندرونی دباؤ اور علاقائی خطرات اور جنگ کے اعادے کے خطرے کے سامنے جم کر کھڑا رہے گا؟
[ایرانی پروفیسر) ڈاکٹر حسین رُویوَرَان: پہلی بات: کیا ایران مزاحمت کر سکتا ہے؟ میں کہتا ہوں جی ہاں! کیونکہ میں ایرانی معاشرے کے اندر زندگی بسر کرتا ہوں۔ امریکیوں کا یہ تصور، ـ کہ ایرانی معاشرہ اس ملک کے سیاسی نظام سے الگ ے، ـ سیاسی تجزیئے میں ان کی غلطیوں کی بنیادی جڑ ہے۔
انہوں نے پہلے دن سے کہہ دیا کہ اتنا ہی کافی ہے کہ ایران کے قائدین کو قتل کیا جائے، اس ملک کا نظام گر جائے گا، بعد میں نئے نظام اور نئے لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ یہ ٹرمپ کی باتیں ہیں۔
یہ درست ہے کہ امریکہ نے قتل اور دہشت گردی پر مبنی مجرمانہ اقدامات کا سہارا لیا لیکن جو انہیں توقع تھی، وہ پوری نہ ہوئی۔
دیکھئے؛ امریکہ اپنے تجزیوں میں مادی اوزاروں کو بروئے کار لاتا ہے، لیکن جو کچھ ایران کر رہا ہے اس کی بنیادی معنوی اور روحانی عوامل ہیں، اور مادی تجزیئے کے اوزار ان کے ادراک سے عاجز ہیں۔
مثال کے طور پر بہت سارے امریکی تجزیہ کار بحری ناکہ بندی کے آغاز پر کہتے تھے کہ ایران دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک کھڑا نہیں رہ سکتا، لیکن ایسا نہیں ہؤا اور ایرانی قوم مہینوں سے، بدستور کھڑی ہے۔ یہیں سے معلوم ہوت ہے کہ ایران کے بارے میں امریکی تصورات غلط مفروضوں پر استوار ہیں۔
امریکہ ایران کو نہیں پہچاناتا، ور ایرانی عوام کو نہیں پہچانتا۔ ایران ان ممالک میں سے نہیں ہے جو سائکس پیکو سمجھوتے کے دائرے میں قائم ہؤا ہو؛ اور ان ممالک میں سے نہیں ہے جن کی سرحدوں کا تعین برطانیہ اور فرانس نے کیا۔
ایران کی سرحدیں سائکس پیکو سمجھوتے سے پہلے بھی موجود تھیں اور یہ سرزمین پوری تاریخ میں دفاع اور خون کے ذریعے محفوظ رہی ہے۔ چنانچہ، ایرانی عوام بلند درجے کے اتحاد اور سماجی یکجہتی سے بہرہ مند ہے؛ اور اپنے وطن کے دفاع کے حوالے سے ان کے درمیان گہرے رشتے موجود ہیں؛ ایک ایسی حقیقت کہ امریکہ اس کی فہم و ادراک سے عاجز و بے بس ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ