بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || روبیو کی مشکل یہ ہے کہ اس کے تاریخی-تہذیبی بیانئے میں اندرونی تضادات ہیں، اس کے متذکرہ ماضی اور موجودہ حقائق کے درمیان ساتھ واضح تضادات پائے جاتے ہیں:
دوسری قسط:
حال اور ماضی کی یکسان سازی ناممکن / ایران کا یونان پر حملہ افسانہ اور ایران پر امریکہ موجودہ حقیقت
روبیو کی مشکل یہ ہے کہ اس کے تاریخی-تہذیبی بیانئے میں اندرونی تضادات ہیں، اس کے متذکرہ ماضی اور موجودہ حقائق کے درمیان ساتھ واضح تضادات پائے جاتے ہیں:
اولاً، ساسانی ایران کے یونان کے ساتھ تقابل، اور آج کے ایران کے امریکہ کے ساتھ تقابل، میں گہرا فرق ہے؛ اس "یکسان سازی" (یا حال اور ماضی کو یکسان بنانے) کا منصوبہ، ـ اس طرح سے ہرگز مستحکم نہیں ہوگا، جیسا کہ روبیو چاہتا ہے۔۔ فریب کاری اور دھوکے بازی کا یہ کھیل اسلاموفوبیا کے معاملے میں ایک بار مغربیوں کو دکھایا جا چکا ہے اور مغرب میں کوئی بھی اس کی بھاری قیمت کو نہیں بھول سکا ہے۔
ثانیاً، ایران کو شرّ بنانے (Demonization) کا بیانیہ ایسے وقت میں پیش کیا گيا ہے کہ جب اسرائیل نے فلسطین میں وسیع پیمانے پر نسل کشی کی ہے اور امریکہ اس کا سب سے بڑا حامی ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ جس کو اس خاص زمانے میں کسی طرح بھی چھپایا نہیں جا سکا ہے، اور اسرائیل اور اس کے حامی آج کی عالمی رائے عامہ میں "شرّ مطلق" کا عنوان اپنے نام کر چکے ہیں؛ چنانچہ روبیو-ٹرمپ کا یہ بیانیہ نہ صرف ان کی تباہ شدہ ساکھ کو بحال نہیں کر سکتا بلکہ اصولی طور اس کا منظر عام پر آنا ہی، شر مطلق کی اگلی پسپائیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
آج کی آزاد دنیا میں شر اس وجود کا عنوان ہے جس نے غزہ میں لاکھوں افراد کو شہید، زخمی اور بے گھر کر دیا ہے اور ایران اس مظلوم قوم کا واحد حامی ہے۔ چنانچہ اُس ایران کی یہ تصویر کشی، جس نے مبینہ طور پر کئی ہزار سال پہلے یونان جارحیت کی ہوگی، بھی زندہ حقائق کے سامنے ایک مسخ شدہ بیانیہ بنانے کی ناکام کوشش ہے۔
سب نے دیکھا ہے کہ امریکہ نے ایران پر دو بار مذاکرات کے درمیان حملہ کیا، بچوں کا قتل عام کیا، مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں، مساجد، اسکولوں، یونیورسٹیوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچوں پر بم برسائے، ایران کی تہذیب تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں، جو خود جنگی جرم کے زمرے میں آتی ہیں؛ آخرکار اپنی ہی درخواست پر منعقدہ مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف بحری محاصرہ نافذ کیا؛ یعنی وہ سب کچھ جو روبیو نے 2400 سال قبل کے ایران سے منسوب کیا ہے، امریکہ نے آج کے زندہ انسان کی آنکھوں کے سامنے سرانجام دیا ہے۔
اور ہاں! اگرچہ ممکن ہے کہ مغرب میں برسوں سے جاری ایرانوفوبیا کی 'منظم' مہم نے روبیو جیسوں کی کچھ باتیں کچھ مغربیوں کے لئے قابلِ یقین بنا دیا ہو لیکن آج کی دنیا مغرب کے روایتی بیانئے کو نہیں مانتی اور دنیا والے ماضی کے برعکس، اس زمانے میں حقائق سمجھنے کے لئے، مغربی ذرائع ابلاغ پر نہیں، سوشل میڈیا پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں، جس کا عینی ثبوت ان دنوں میں مغربی ممالک میں جاری اسرائیل مخالف عوامی تحریک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تکمیل و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ