10 اکتوبر 2026 - 08:42
مذاکرے کے باوجود جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، متعدد علاقوں پر گولہ باری

اسرائیلی فوج نے فریم ورک معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی اور مختلف مقامات پر دھماکے کیے۔ ان حملوں میں جانی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، العربی الجدید نے رپورٹ کیا کہ حزب اللہ سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے مشرقی لبنان کے شہر ہرمَل کے علاقے حوش السید علی میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے کی بھی اطلاع دی، جس میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم حملہ ہدف پر نہیں لگا۔ لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی نے بھی یہ خبر نشر کی، جبکہ لبنانی فوجی ذرائع نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

اسرائیلی توپ خانے نے جمعے کے روز منصوری، نبطیہ الفوقا، کفر تبنیت، میفدون کے مضافات، وادی زبقین، برعشیت، حداثا اور مشرقی زوطر کے مضافاتی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے الطیری قصبے اور جنوبی لبنان میں وادی حسن اور مجدل زون کے اطراف دھماکے بھی کیے۔ خیام شہر سے ابل السقی کے مضافات میں واقع نبع ابل کی جانب خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیل 26 جون کو واشنگٹن میں لبنان کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان پر روزانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیروت نے فوجی کارروائیاں مکمل طور پر روکنے اور نئے آزمائشی علاقوں سے متعلق اتفاقِ رائے کے لیے مطالبات کیے، تاہم لبنانی حکام کے مطابق انہیں مثبت جواب نہیں ملا۔

لبنانی حکام نے اسرائیل پر معاہدے کی شقوں پر عمل نہ کرنے اور براہِ راست مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ مذاکرات اگست سے تعطل کا شکار ہیں، جبکہ امریکا رواں ماہ فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں فوجی مذاکرات کا نیا دور منعقد کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

لبنان کی وزارت صحت کے 25 ستمبر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 8 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں میں لبنان میں شہدا کی تعداد 8,953 اور زخمیوں کی تعداد 30,649 ہوچکی ہے۔ ان میں 2 مارچ 2026 سے اب تک 4,386 شہدا اور 12,413 زخمی شامل ہیں۔

دوسری جانب، لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے جمعے کو بیروت میں عرب بین الاقوامی کتاب میلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کے تمام علاقوں پر ریاستی اختیار اور خودمختاری بحال کرنے، معیشت کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے ضروری اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی بحالی اصلاحات، اعتماد اور جواب دہی کے بغیر ممکن نہیں، جبکہ پائیدار تعمیرِ نو کے لیے سلامتی اور استحکام ناگزیر ہیں۔ اسی طرح پائیدار استحکام اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں کا اختیار مکمل طور پر ریاست کے پاس نہ ہو اور سرکاری ادارے مؤثر انداز میں کام نہ کریں۔

نواف سلام نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری بحال کرنے کے لیے لبنانی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ، حملوں کی بندش، بے گھر افراد کی محفوظ اور باعزت واپسی اور متاثرہ دیہات و شہروں کی تعمیرِ نو ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست اس وقت تک مکمل خودمختاری حاصل نہیں کرسکتی جب تک وہ گروہی اور نجی مفادات کے دباؤ سے آزاد نہ ہو۔ ان کے مطابق، عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے انصاف، مساوات اور قانون کی حکمرانی کو ریاستی نظام کی بنیاد بنانا ہوگا۔

لبنانی وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ان اہداف کا حصول مشکل ہے اور ملک کو کئی دہائیوں سے جمع شدہ مسائل اور بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم ان کے بقول مشکلات ذمہ داریوں کو مؤخر کرنے کا جواز نہیں بن سکتیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha