10 اکتوبر 2026 - 09:36
شہید امام خامنہ ای کی توہین پر بھارتی شیعہ رہنما کا سخت ردعمل، کامیڈین کے خلاف ملک گیر قانونی کارروائی کا مطالبہ

آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا یعسوب عباس نے بھارتی کامیڈین انکت اگنی ہوتری کے ایران کےشہید امام خامنہ ای سے متعلق بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملک بھر میں ان کے خلاف قانونی شکایات درج کرانے کی اپیل کی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، مولانا یعسوب عباس نے ایک ویڈیو پیغام میں الزام عائد کیا کہ کامیڈین نے شہید امام خامنہ ای کے ساتھ ساتھ لکھنؤ کی شیعہ برادری کی بھی توہین کی ہے، جنہوں نے ایرانی رہنما کی وفات پر عوامی سطح پر سوگ منایا تھا۔

مولانا عباس نے کہا کہ شہید امام خامنہ ای کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق، کامیڈین نے اس مذہبی اور جذباتی اہمیت کو نظرانداز کیا جو آیت اللہ خامنہ ای بہت سے پیروکاروں کے لیے رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، یہ تنازع انکت اگنی ہوتری کے ایک اسٹینڈ اَپ کامیڈی پروگرام کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد لکھنؤ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران لگائے جانے والے نعروں کا مذاق اڑایا۔ ان نعروں میں ’’ہر گھر سے خامنہ ای نکلے گا‘‘ بھی شامل تھا۔

مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ کامیڈین نے ایک عالمی سیاسی اور مذہبی شخصیت پر تنقید سے آگے بڑھ کر ان شہریوں کا بھی مذاق اڑایا جو احتجاجی مظاہروں اور تعزیتی اجتماعات میں شریک ہوئے تھے۔
انہوں نے بھارت اور ایران کے درمیان دیرینہ ثقافتی، تجارتی اور مذہبی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے شہر قم اور مشہد شیعہ مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

مولانا عباس نے شیعہ تنظیموں، مذہبی انجمنوں، سماجی نمائندوں اور حیدری ٹاسک فورس کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ ملک کے مختلف علاقوں میں انکت اگنی ہوتری کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں۔

تاہم، انہوں نے واضح طور پر زور دیا کہ کوئی بھی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے اور اس معاملے میں تمام اقدامات قانونی طریقۂ کار کے تحت کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ریاستوں اور اضلاع میں متعلقہ حکام کے ذریعے شکایات درج کرائی جائیں۔

مولانا عباس نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ محض معذرت کو اس تنازع کا اختتام نہیں سمجھا جانا چاہیے اور مذہبی شخصیات کے بارے میں توہین آمیز بیانات پر قانونی نتائج مرتب ہونے چاہییں۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں شیعہ تنظیموں اور صارفین نے کامیڈین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کے رہبرِ اعلیٰ رہے۔ رپورٹ کے مطابق، فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی مہم کے دوران ان کی ہلاکت کے بعد بھارت سمیت کئی ممالک میں ان کے حامیوں نے سوگوار اجتماعات اور احتجاجی مظاہرے کیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha