اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق،روبیو نے ایتھنز میں اپنے یونانی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ تہران امریکی افواج کو خطے سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے اور ساتھ ہی اپنی روایتی فوجی صلاحیتوں کو اس حد تک مضبوط کر رہا ہے کہ ایران کو روکنا مشکل ہوجائے۔
روبیو نے امریکی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات نے ایرانی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے اور تہران ایک ایسی صورتحال کے قریب پہنچ رہا ہے جس کا سامنا دنیا کے صرف چند ممالک نے کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق واشنگٹن کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوسکتے اور کسی بھی قابل قبول معاہدے میں اس بات کی ضمانت ہونی چاہیے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا اپنی مضبوط فوجی صلاحیت کے باعث مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روبیو نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر یونان آبنائے ہرمز میں واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی افواج نے تقریباً 23 سال کی فوجی موجودگی کے بعد گزشتہ ہفتے عراق سے اپنے مکمل انخلا کا عمل مکمل کیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایران اور اس کے اتحادیوں نے امریکی انخلا کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے، جبکہ بعض عراقی سکیورٹی ماہرین ایران کو اس پیش رفت سے تزویراتی فائدہ اٹھانے والے فریقوں میں شمار کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ