اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، رائٹرز کو دو حکام نے بتایا کہ ترکیہ کی موجودہ معاونت میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور مختلف دفاعی نظام شامل ہیں۔
ایک ترک عہدیدار کے مطابق، انقارہ کی جانب سے فی الحال فوجی دستوں کی تعیناتی نہیں کی گئی اور تعاون بنیادی طور پر دوطرفہ سطح پر جاری ہے۔ اس میں فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہیں، جبکہ ترک پارلیمان نے ابھی مکہ معاہدے کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔
امریکی حکام کے مطابق ترکی نے سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی صلاحیتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں اسٹریٹجک منصوبہ بندی، لاجسٹک معاونت، ڈرونز سے متعلق تعاون، فضائی دفاع اور انٹیلی جنس، نگرانی و جاسوسی کی صلاحیتیں شامل ہیں۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے ممکنہ تعاون کی نوعیت پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ ترک حکام کے مطابق مکہ معاہدہ آئندہ چند دنوں میں منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے اگست میں مشترکہ دفاع سے متعلق مکہ معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک اس نئے دفاعی اتحاد کے عملی ڈھانچے اور فوری فوجی تعاون کے طریقہ کار پر بھی کام کر رہے ہیں۔
تینوں ممالک نے پیر کو مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عمل درآمد اور سعودی عرب میں فوجی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ ترکیہ نے اس سے قبل سعودی عرب کی دفاعی اور فنی ضروریات پوری کرنے میں مدد کی پیشکش کی تھی اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد میں شامل ہونے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
آپ کا تبصرہ