8 اکتوبر 2026 - 07:24
امریکا اور اسرائیل کی فرضی کارروائیوں کی سات دہائیوں پر محیط تاریخ پر ایران کا رد عمل

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران مبینہ فالس فلیگ کارروائیوں کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے منظرنامہ تیار کیا جاتا ہے، پھر الزام کسی دوسرے فریق پر عائد کیا جاتا ہے اور آخر میں اس کے نتائج سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مختصر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’فالس فلیگ‘‘ ایک پرانی حکمت عملی ہے، جس میں پہلے واقعہ یا کارروائی کی مصنوعی صورت حال پیدا کی جاتی ہے، پھر انگلی کسی دوسرے فریق کی جانب اٹھائی جاتی ہے اور آخر میں اس کے نتائج سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب امریکی اور عالمی رائے عامہ ایران کے خلاف غیر قانونی اور جارحانہ جنگ سے تنگ آچکی ہے اور حملہ آور اپنی فوجی جارحیت کا جواز پیش کرنے سے قاصر ہیں، وہ اپنے بچاؤ کے لیے ہر جھوٹے بہانے کا سہارا لے رہے ہیں۔

بقائی نے اس صورت حال کو ایک فارسی محاورے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ڈوبتا ہوا شخص بچنے کے لیے ہر تنکے کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha