بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || "ہم طوفان الاقصیٰ آپریشن کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں۔" یہ شہید محمد ضیف، القسام بریگیڈز کے کمانڈر ان چیف کی بہادر آواز تھی جو 7 اکتوبر 2023 کو طلوعِ آفتاب سے کچھ گھنٹے پہلے غزہ میں گونج اٹھی۔
تیسری اور آخری قسط:
رہبرِ شہیدِ انقلاب کے بیان میں یہ "پاگل کتا" استعاراتی تعبیر نہیں تھی۔ صہیونی رجیم کے جرائم کے اعداد و شمار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ اکتوبر سنہ 2023ع سے پہلے، سنہ 2000ع سے اب تک 2115 فلسطینی بچے [مغربی پٹی میں] صہیونی فوجیوں اور آبادکاروں کے ہاتھوں مارے جا چکے تھے جن میں سے 521 کی عمریں آٹھ سال سے کم تھیں۔ اور یہ صہیونیوں کی درندگی کا صرف ایک حصہ عیاں کرتا ہے اور طوفان، اس قدر شدید بے رحمی کا صرف ایک فطری انسانی جواب ہے۔ جیسا کہ شہید سید حسن نصر اللہ نے فرمایا:
"کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ خطے کے موجودہ واقعات 7 اکتوبر سے شروع ہوتے ہیں۔ لیکن یہ غلط ہے۔ 7 اکتوبر کا واقعہ (اور معرکۂ طوفان الاقصیٰ) ایک فطری انسانی جواب تھا اُس صورتحال کے سامنے جو خطے کی طرف لائی گئی تھی، اور یقیناً یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو خطے کے حق میں رقم ہؤا۔"
لاعلاج زخم
جس دن طوفان الاقصیٰ آپریشن کا ڈھول بج گیا، صہیونی رجیم کے استکباری جسم پر ایک ایسا زخم لگا جسے رہبرِ شہیدِ انقلاب نے لاعلاج قرار دیا۔ اسی لئے اسے ایک بڑا اور آگے بڑھتا ہؤا قدم قرار دیا گیا۔ برسوں کی محدود کارروائیوں کے بعد، یہ مقبوضہ علاقوں کے اندر حملہ آور اور وسیع جہتوں کے ساتھ پہلی صہیونیت مخالف کارروائی تھی جس نے تسدید (ڈیٹرنس) کے قاعدے کو بدل دیا۔ نیتن یاہو کی حکومت مکمل اٹیلی جنس اور سیکیورٹی ناکامی کی دلدل میں دھنس گئی؛ اس حد تک کہ آبادکاروں کی ریاست نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا کہ ایک دن اُن کی سلامتی کی بلند دیوار اس طرح چکنا چور ہو جائے گی۔
طوفان الاقصیٰ بڑا سبق
رہبرِ شہیدِ انقلاب نے فرمایا:
"طوفان الاقصیٰ [کاروائی] نے جو اہم کام کئے اُن میں سے ایک یہ تھا کہ اس نے واضح کرکے دکھایا کہ کس طرح ایک چھوٹا گروہ ۔۔۔ بہت کم سازوسامان اور قلیل وسائل، لیکن ایمان اور مضبوط عزم و ہمت کے ساتھ، دشمن کے برسوں کے مجرمانہ عزائم کی پیداوار کو، چند ہی گھنٹوں میں دھواں بنا کر ہوا میں بکھیر سکتا ہے؛ مغرور اور استکباری عالمی حکومتوں کو ذلیل کر سکتا ہے۔" (1) (یکم نومبر 2023ع)
جی ہاں، جب "درندگی" عروج پر پہنچ جائے اور ایک قوم کا حق دہائیوں تک نظر انداز کیا جائے، تو الیکٹرانک دیواریں اور فوجی سازوسامان ایک قوم کے غصے کے پھٹ جانے کے عمل کو روک نہیں سکتے۔ طوفان الاقصیٰ ایک "زلزلہ" تھا جس نے ایک قابض نظام کی بنیادیں دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہلا دیں اور دنیا کو یاد دلایا کہ کوئی ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتا بلکہ ایمان کی طاقت ان سب پر غالب آئے گی اور کامیابی اُن لوگوں کی ہے جو صبر و استقامت کرتے ہیں اور مزاحمت کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ رہبر شہید کا کلام اللہ تعالی کے اس ارشاد کی طرف اشارہ ہے کہ "كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ؛ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا صبر (اور استقلال و استقامت) کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ