5 اکتوبر 2026 - 10:48
خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک بھی امریکی جنگی جہاز موجود نہیں:علی فدوی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف کے مشاورتی گروپ کے سربراہ علی فدوی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت خلیج فارس، آبنائے ہرمز، بحیرہ عمان حتیٰ کہ شمالی بحرِ ہند میں بھی کوئی امریکی بحری جہاز موجود نہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف کے مشاورتی گروپ کے سربراہ علی فدوی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت خلیج فارس، آبنائے ہرمز، بحیرہ عمان حتیٰ کہ شمالی بحرِ ہند میں بھی کوئی امریکی بحری جہاز موجود نہیں۔

علی فدوی نے ایک خصوصی ٹی وی پروگرام میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری افواج خلیج فارس سے پیچھے ہٹ کر ایرانی سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور چلی گئی ہیں اور یہ صورتحال ایران اور سپاہ پاسداران کی بحری طاقت کا نتیجہ ہے۔

فدوی کے مطابق امریکا نے اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے ایک بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کی کوشش کی، تاہم اسے آبنائے کے جنوبی حصے سے، عمان کے ساحل کے قریب سے گزارا گیا، جہاں چٹانوں کی وجہ سے یہ راستہ جہاز رانی کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تیل برآمدات کا ایک بڑا حصہ گزرتا رہا ہے اور موجودہ صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈی اور مختلف ممالک کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔

علی فدوی نے کہا کہ ایران نے خطے کے ممالک کو اپنی ریڈ لائنز سے آگاہ کردیا ہے اور ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کا نقطۂ آغاز بننے والی جگہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے کبھی خطے کے ممالک کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنایا ہے۔

فدوی نے مزید کہا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف زمینی حملہ کرتا ہے تو ایران امریکی فوجی اڈوں اور امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوا اور خطے میں امریکی موجودگی کے باوجود واشنگٹن ایران پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکا۔

فدوی نے یہ بھی کہا کہ ایران نے اپنی فوجی صلاحیت میں اضافے کے لیے ایک دن یا حتیٰ کہ 24 گھنٹے بھی ضائع نہیں کیے اور ملکی سطح پر میزائلوں سمیت مختلف دفاعی ہتھیاروں کی تیاری جاری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha