بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || پاکستان کے وزیر خارجہ، محمد اسحاق ڈار نے اپنے تازہ ترین بیان میں ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی مخالفت کی اور آبنائے کی صورتحال کو جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس لانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا: "[آبنائے ہرمز سے] تجارتی جہازوں کی آمدورفت لا محدود اور کسی بھی قسم کے ٹول اور ٹیکس کے بغیر ہونی چاہئے۔"
اس طرح کے بیانات ایران کی سرخ لکیر کے خلاف اور جنگ میں امریکہ کے بنیادی مطالبے سے ہم آہنگ ہیں۔ لیکن یہ بات اس وقت اہم ہو جاتی ہے جب ہم ان دنوں پاکستان کے بظاہر ثالثانہ کردار پر توجہ دیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان تقریباً 7 مہینوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ابتدائی مفاہمت نامہ، جس کے تمام نکات واشنگٹن نے توڑ دیئے ہیں، پاکستان کی ثالثی میں مرتب کیا گیا تھا اور اس پر اس ملک کے دارالحکومت یعنی اسلام آباد کا نام رکھا گیا: "اسلام آباد مفاہمت نامہ۔"
اس سمجھوتے کے مطابق، نہ صرف جنگ کے دوران بلکہ اس کے مکمل خاتمے کے بعد بھی آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے پاس رہے گا اور جہازوں اور کشتیوں کی آمدورفت تہران کے انتظامات کے مطابق ہونی چاہئے۔
یہ وہ معاملہ ہے جس کا ایران کے سرکاری حکام نے متعدد بار اعلان کیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ، ڈاکٹر سید عباس عراقچی نے 28 حون 2026ع کو اپنے عراقی ہم منصب کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہا تھا: "انتظامات کی ذمہ داری اسلامی جمہوریہ ایران پر ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے مطابق، اس سلسلے میں کسی دوسرے ادارے یا ملک کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے جاری انتظامات کے علاوہ نئے یا الگ انتظامات اختیار کرنے کی کوئی بھی کوشش صرف صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے گی اور آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی میں تاخیر کا باعث ہوگی۔"
دوسرا نکتہ اسلام آباد سمجھوتے سے بڑھ کر اور جارح اور جنگ شروع کرنے والے کی شناخت سے متعلق ہے۔
پاکستان کو، چاہے وہ کوئی کردار ادا نہ کرنے والا ملک بھی ہو، یہ جاننا چاہئے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کی واحد وجہ ایران پر امریکہ کی غیر قانونی جارحیت تھی۔
یہ جارحیت خلیج فارس میں واشنگٹن کے ہتھیاروں اور اڈوں کے استعمال سے کی گئی اور تہران کو حق ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے آبنائے کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے۔
لیکن پاکستانی وزیر خارجہ ـ جو ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، ـ امریکی جارحیت اور آبنائے کی بندش کی وجہ بیان کئے بغیر اس کے دوبارہ کھل جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تیسری بات یہ کہ مفاہمت کی مکمل خلاف ورزی کے باوجود، ایران نے امریکی فریق کو 7 نکاتی تجویز پیش کر کے معاملات کی اصلاح کی کوشش کی۔ پاکستان جو کردار بطور ثالث ادا کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ امریکہ کے وعدوں کی تکمیل کی پیروی کرے؛ نہ یہ کہ مفاہمت کے خلاف، آبنائے ہرمز کے معاملے میں غیر جانبدارانہ اور امریکی فریق کے مفادات کے موافق موقف اختیار کرے۔
بین الاقوامی روایات میں، ایک ثالث کا رویہ غیر جانبدارانہ اور فریقین کے لئے تسلیم شدہ ہونا چاہئے؛ لہٰذا اگر پاکستانی وزیر خارجہ اس کردار میں اپنی غیر جانبداری کی خلاف ورزی کریں، تو ممکن ہے کہ تہران اسلام آباد کا ثالثانہ کردار مزید تسلیم نہ کر سکے؛ اور اس معاملے پر نظرثانی کا امکان موجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی رضائی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ