بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران کے خلاف جنگ کے دوران یورپی ممالک اور جی-7 کے رکن، نیز یورپ میں واشنگٹن کے دوسرے اتحادی، ممالک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے نتیجے میں، بالآخر تیل اور ایندھن کے ذخائر کے دروازے کھولنا پڑے اور ان ممالک نے وسیع پیمانے پر تیل منڈی میں روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ فیصلہ اس وقت ہؤا جب ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر یورپ ایندھن کی فراہمی نہیں بڑھائے گا تو امریکہ یورپ کو ڈیزل کی برآمدات پر پابندی لگا دے گا۔
رپورٹوں کے مطابق واشنگٹن نے فرانس اور جرمنی سے اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ماننے کی صورت میں یورپ کو ڈیزل برآمدات محدود کرنے کی دھمکی دی تھی۔ چنانچہ یورپی مان گئے حالانکہ ایندھن یورپ میں بھی مہنگا ہے وہ یورپی موسم سرما سے قبل ذخائر کی سطح کے بارے میں فکرمند ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ایک قلیل مدتی اقدام ہے جس سے ایندھن کی قیمتوں میں کچھ دنوں تک کمی آ سکتی ہے لیکن یورپ کے ذخائر موسم سرما کے لئے خالی ہو جائیں گے، اور یورپی ممالک پھر بھی ٹرمپ کے لئے قربانی کا بکرا بنیں گے؛ کیونکہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کی صورتحال اب بھی غیر واضح ہے اور تیل کی منڈی پر آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کا دباؤ برقرار ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اپنی غیر قانونی جنگ کے سے پیدا ہونے والے بحرانوں کے اخراجات کا کچھ حصہ یورپ پر ڈالتا رہا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ کے اخراجات یورپیوں پر ڈالنا:
توانائی کے شعبے کے امریکی محقق ایمن ڈرم (Eamon Drumm) کے مطابق واشنگٹن کے اہداف میں سے ایک یہ ہے کہ یورپ ایران کی جنگ سے پیدا ہونے والے اقتصادی اخراجات کا بڑا حصہ برداشت کرے۔
ادھر یورپی یونین کے توانائی کمشنر ڈان یورگنسن (Dan Jørgensen) نے کہا کہ یورپی ممالک نے ایران کی جنگ کے آغاز سے اب تک توانائی کی درآمدات پر 100 ارب یورو سے زیادہ اضافی اخراجات برداشت کئے لیکن اس کے بدلے یورپ کو "ایک مالیکیول" کے برابر بھی زیادہ گیس یا تیل" نہیں ملا۔
واضح رہے کہ یورپ اپنی ڈیزل کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے اور اس ایندھن کی قیمت میں اضافے نے یورپی ممالک کی معیشتوں پر دوہرا دباؤ ڈالا ہے۔
حلقہ بگوش غلام
ادھر بیلجیئم سے یورپی پارلیمنٹ کے ممبر مارک بوٹینگا (Marc Botenga) نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا:
امریکہ: ایران کے خلاف ایک غیر قانونی خودسرانہ جنگ شروع کرتا ہے، توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافے کے اسباب فراہم کرتا ہے اور یورپ سے کہتا ہے کہ وہ میدان میں آئے۔
یورپ: پہلے اس جارحیت کی لاجسٹک حمایت کرتا ہے اور پھر تابعداری سے اپنے ایندھن کے ذخائر کھولتا ہے تاکہ ٹرمپ کے نقصانات کی تلافی کرے۔ اب کس حد تک کہا جا سکتا ہے یورپ امریکہ حا حلقہ بگوش ہے؟ مکمل طور پر Hands up.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ