30 ستمبر 2026 - 21:06
عمار حکیم: عالمی اتحاد کا مشن ختم، عراق کی خودمختاری کے نئے مرحلے کا آغاز

عراق کی حکمت قومی تحریک کے سربراہ سید عمار حکیم نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف عالمی اتحاد کا مشن ختم ہونا عراق کی خودمختاری کے استحکام کے ایک نئے قومی مرحلے کا آغاز ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کے یومِ خودمختاری کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمار حکیم نے داعش کے خلاف جنگ میں عراقی عوام، شہدا، دینی مرجعیت اور مسلح افواج کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ نجف کی اعلیٰ دینی مرجعیت کے فتوے نے عراقی قوم کے اتحاد اور یکجہتی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔

عمار حکیم نے عراقی فوج، پولیس، انسداد دہشت گردی فورسز، الحشد الشعبی، پیشمرگہ، قبائلی حشد اور مزاحمتی قوتوں کی قربانیوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں داعش کی دہشت گردی کو شکست ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی خودمختاری اسی وقت مکمل ہوگی جب قانون نافذ کرنے کا اختیار حکومت کے پاس ہو، طاقت ریاست اور اس کے قانونی اداروں کے پاس رہے اور جنگ و امن سے متعلق فیصلے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی ادارے کریں۔

عمار حکیم نے زور دیا کہ عالمی اتحاد کے مشن کے خاتمے کے بعد عراق کو اپنی قومی فوجی و سکیورٹی صلاحیتوں، انٹیلی جنس نظام اور دہشت گردی کے خلاف مستقل تیاری کو مزید مضبوط کرنا ہوگا تاکہ داعش یا کسی دوسرے دہشت گرد گروہ کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ ملے۔

انہوں نے ریاستی دائرہ کار سے باہر موجود ہتھیاروں کے مسئلے کے حل کو بھی قومی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو مکالمے اور باہمی اتفاقِ رائے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ قانون کی بالادستی مضبوط ہو اور عراق کو خطے کے تنازعات سے دور رکھا جاسکے۔

حکمت قومی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ عراق کی خودمختاری کا مطلب صرف غیر ملکی افواج کا آنا یا جانا نہیں بلکہ آزادانہ قومی فیصلے، ملک کی سلامتی کا اپنے اداروں کے ہاتھ میں ہونا اور معیشت کا دوسرے ممالک کے بحرانوں سے محفوظ رہنا بھی خودمختاری کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق کو کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کا مرکز یا دوسروں کی جنگوں کا میدان نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق جنگ و امن، سرحدوں اور فضائی حدود کے تحفظ اور طاقت و اسلحے کے استعمال سے متعلق اختیار صرف حکومت اور قانونی اداروں کے پاس ہونا چاہیے۔

عمار حکیم نے کہا کہ عراق نے اپنی خودمختاری کی بحالی کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے، تاہم اب زیادہ مشکل مرحلہ ایک ایسی مضبوط ریاست کی تشکیل ہے جو ملک کی سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی خودمختاری کا تحفظ کرسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراق کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایک مستحکم ملک بننا چاہیے، نہ کہ تنازعات اور بحرانوں کا میدان۔ ان کے مطابق عراق اپنے عرب، علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر متوازن تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

عمار حکیم نے کہا کہ علاقائی سلامتی بھی عراق کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے اور عراق کسی بھی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بننا چاہتا جو دوسرے ممالک کے خلاف جارحیت کا ذریعہ بنے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق کی مدد کرنے والی علاقائی اور عالمی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں عراق اپنی قومی ترجیحات اور خودمختار فیصلوں کے مطابق دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دے گا۔

انہوں نے عالمی برادری کے لیے عراق کا پیغام واضح قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق خطے میں امن و استحکام کے لیے ہونے والی کوششوں میں شریک، مذاکرات کا حامی اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کے فروغ کے لیے کوشاں رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha