29 ستمبر 2026 - 17:40
دشمن سے انتقام کا عزم برقرار ہے، ایڈمرل سیاری

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف اور مسلح افواج کے کوآرڈینیٹر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے حالیہ حملوں میں انقلاب اسلامی کے رہبر شہید، مسلح افواج کے اہلکاروں اور عوام کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن نے ان اقدامات سے ہمارے عزیزوں کو شہید کر دیا ہے اور انتقام کے معاملے میں ہمارا عزم  بدستور برقرار ہے، [۔۔۔]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف اور مسلح افواج کے کوآرڈینیٹر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے حالیہ حملوں میں انقلاب اسلامی کے رہبر شہید، مسلح افواج کے اہلکاروں اور عوام کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن نے ان اقدامات سے ہمارے عزیزوں کو شہید کر دیا ہے اور انتقام کے معاملے میں ہمارا عزم  بدستور برقرار ہے، ہمیں اپنی منصوبہ بندیوں میں انتقام کو شامل رکھنا چاہئے؛ جب بھی اور جہاں بھی یہ موقع آئے۔ انھوں نے دفاع مقدس ہفتے کے موقع پر ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

 تقریر کے اہم نکات:

• تین دفاع مقدس: آٹھ سالہ جنگ، بارہ روزہ جنگ، اور جنگ رمضان جو اب بھی جاری ہے۔

• دشمن کا مقصد تینوں جنگوں میں یکساں: انقلاب کو شکست دینا، ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانا، ایران کو کمزور اور مطیع بنانا۔

• پہلی جنگ میں صدام، دوسری اور تیسری میں اسرائیل امریکہ کا پراکسی رہا۔

• تینوں جنگوں میں دشمن اپنے اہداف حاصل نہ کر سکا اور شکست سے دوچار ہؤا؛ ہم نے جارحیت نہیں، ہم نے دفاع کیا اور فتح یاب ہوئے۔

• دشمن کے حملے کے فوری طور پر جواب دیا گیا؛ آٹھ سالہ جنگ میں بھی جارحیت شروع ہونے کے دو گھنٹے بعد جوابی کارروائی ہوئی۔

• کامیابی کے عوامل: امام خمینی اور رہبر شہید (رضوان اللہ علیہما) کا کردار، شہداء کا کردار، متحد و یک جہت مسلح افواج، اور عوام کی پشت پناہی۔

• شہداء نے شعوری طور پر میدان میں قدم رکھا؛ جنگ کے لئے رضاکار جوانوں کی باری لگی ہوئی تھی۔

• آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور شمالی بحر ہند ہمارا علاقہ ہے؛ کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

• ملت ناقابل شکست اور ناقابل تسلیم ہے؛ تسلیم ہونا اور ہتھیار ڈالنے کا لفظ ہماری قوم کی لغت میں نہیں ہے۔

• انقلاب کے آغاز سے اب تک پابندیاں، دھمکیاں، سخت، نرم، ثقافتی، معاشی جنگیں جاری ہیں۔

• آج جنگ ارادے اور برداشت کی جنگ ہے؛ جو میدان میں زیادہ ٹہرے وہی فاتح و کامیاب ہے۔

• ہم نے سب سے بڑی علاقائی اور عالمی فوج سے جنگ لڑی؛ دفاع اسی لیے مقدس ہے۔

• ہم مظلوم مگر طاقتور ہیں۔

• ایران قبائل کا گلستان ہے؛ دشمن تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے مگر ناکام رہے گا۔

• تشہیری اور ابلاغیاتی جنگ بڑی جنگ ہے؛ عوام کو سرکاری ذرائع سے خبریں لینی چاہئیں۔

• شہداء کی خون سے ہمیں طاقت ملی؛ دفاعی پیداوار جاری ہے اور حملوں کی وجہ سے نہیں رکتی۔

• ایرانی خواتین کی قربانیاں، شہداء کی زوجات کا عزم قابل ستائش ہے۔

• ہر جنگ سے سبق سیکھا: متحرک رہنا، غیر فعال دفاع دفاع (Passive Defense) اور نرم جنگ پر توجہ۔

• دشمن اپنے نقصانات چھپاتا ہے؛ ان کے جھوٹے اعداد و شمار قابل قبول نہیں ہیں۔

• ہم دشمن کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں؛ وہ خطے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

• دشمن بدنامی کے ساتھ خطے سے نکلے گا؛ حق و باطل کی لڑائی میں حق کی فتح یقینی ہے۔

• کامیابی کا راز: اتحاد، یکجہتی، وحدت اور باہم مل کر رہنا۔

ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے آخر میں رہبر انقلاب اسلامی امام سید مجتبی حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے آج [سوموار 28 ستمبر 2026ع‍] کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اس پیغام میں ایرانی قوم کی عزت، سر بلندی، عظمت، تیاری اور طاقت کے تسلسل، دشمن کے مقابلے میں یکجہتی، حق پرستی اور حق و حقیقت کے اصولوں اور موقف پر پائیداری، جن میں آبنائے ہرمز شامل ہے، قومی ہم آہنگی کے تسلسل، دشمن کے استعمار اور تسلط کی ناقابل اعادہ ہونے، آنے والے شاندار دنوں، محاذ حق کی پائیداری اور باطل کی شکست، مسلح افواج کی طاقت، ہم وطنوں کی ذمہ دارانہ موجودگی، خواتین کے کردار کی تخلیق، آٹھ سالہ دفاع اور حالیہ معرکوں کے دائمی اسباق پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام میں آٹھ سالہ دفاع مقدس اور حالیہ دفاع مقدس کے بعد اسلامی نظام کی مزید مضبوطی، شہیدوں کی تکریم، ایرانی عوام کا قرآن، عترت اور ولایت سے لگاؤ اور عوام پر اعتماد، ایران کی راہ کی حقانیت اور نظام کی طاقت، جو مسلح افواج، حکومت اور عوام سے ماخوذ ہے، پر بھی زور دیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha