بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || چین کے حوالے سے ایک عام سوال یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تقریباً 600 ارب ڈالر کا تجارتی حجم ہونے کے باوجود، اس نے امریکی پابندیوں ـ خاص طور پر ایران (جس کے ساتھ اس کی تجارت صرف 60 ارب ڈالر ہے) کے خلاف فضائی ناکہ بندی پر مبنی پابندیوں ـ کا ساتھ دینے سے انکار کیوں کرتا ہے؟
دیگر توجیہات کے علاوہ، یہ بات قابلِ غور ہے کہ ہر ملک کو کچھ فطری (جغرافیائی-سیاسی، تاریخی وغیرہ) اور کچھ حاصل کردہ (اقتصادی، ثقافتی، نظریاتی وغیرہ) صلاحیتوں اور چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ چین ایک بڑی عالمی طاقت ہے جس نے حالیہ برسوں میں زراعت، معیشت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
اس کے باوجود، ملک کو جغرافیائی-سیاسی (جیوپولیٹکل) چیلنجوں کا سامنا ہے۔ چین کی جغرافیائی-سیاسی کمزوریوں نے ایران سمیت مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔
وسطی ایشیا میں ـ جو اس کے اسٹریٹجک سیکیورٹی کے پس منظر (hinterland) کے طور پر کام کرتا ہےـ چین کو ایک اہم خطرے کا سامنا ہے: امریکہ کی جانب سے جغرافیائی طور پر "گھٹن" (محاصرے) کا شکار ہونے کا خدشہ۔ حالیہ برسوں میں، چین کا راستہ روکنے کے مقصد سے، امریکہ نے وسطی ایشیا میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کا دائرہ بڑھایا ہے اور خاص طور پر کان کنی کے شعبے میں متعدد اقتصادی سرمایہ کاریاں کی ہیں۔
مزید برآں، چین ترکیہ کی "گریٹر ترکستان" (Greater Turkestan) کی حکمت عملی کے نفاذ سے بھی محتاط ہے جو چین کے خطے 'سنکیانگ' تک پھیلی ہوئی ہے اور اس کو وسطی ایشیا کو قفقاز (Caucasus)، ترکیہ اور بالآخر یورپ سے ملانے والے رابطوں کی تعمیرکے لئے انقرہ کی کوششوں سے تشویش لاحق ہے۔ ترکیہ کے اس منصوبے کو امریکی حمایت حاصل ہے۔
دریں اثنا، چین کے مشرق و مغرب راہداری (East-West corridor) کا مرکزی حصہ وسطی ایشیا اور قفقاز سے گذرتا ہے؛ یوکرین میں جنگ اور ٹرانس سائبیرین راستے کی بندش کے بعد اس راہداری کو نمایاں تقویت ملی ہے۔
ان ہی حالات میں، امریکہ، ایران کی سرحدوں سے متصل جنوبی قفقاز (South Caucasus) کے خطے میں ایک راستے کو فروغ دے کر، درحقیقت چین اور یورپ کے درمیان تجارتی راہداری کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ اقدام نہ صرف وسطی ایشیائی ممالک میں چین کی موجودگی اور اثر و رسوخ اور مشرق و مغرب راہداری کے ذریعے یورپ کے ساتھ اس کی تجارت کو محدود کرتا ہے، بلکہ ان ممالک کے لئے سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجوں سے بھی دوچار کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ