بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے منگل 29 ستمبر 2026ع کو غیر ملکی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی عوام کے نام سپاہ پاسداران کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس خط میں امریکہ کی شکستوں ناکامیوں کی وجہ اور ایران جیسے ممالک کے سامنے امریکی فوج کی بے بسی کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ ہم امریکی عوام سے چاہتے ہیں کہ وہ خط کو پڑھ لیں تاکہ ان شکستوں کی حقیقت اور وجہ سے واقف ہو جائیں۔
بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کی پریس کانفرنس کے اہم نکات:
• امریکی عوام کے نام سپاہ پاسداران کا خط کوئی تشہیری یا پروپیگنڈا مواد نہیں بلکہ یہ ایک منطقی، ہمدردانہ، حقیقی اور تفصیلی خط ہے۔
• مقصد امریکی عوام سے سچی اور منطقی بات چیت ہے، کیونکہ وہ ہماری منطق سے زیادہ واقف نہیں ہیں۔
• صحافیوں سے درخواست کی کہ اپنے تمام ذرائع استعمال کر کے یہ خط امریکی عوام تک پہنچائیں۔
• امریکی عوام سے توقع ہے کہ کم از کم ایک بار اس خط کو پڑھ لیں؛ جواب، تنقید یا وضاحت کے لیے مکاتبے کا راستہ کھلا ہے۔
• ایران کے مسلح افواج کا سالانہ بجٹ امریکی فوج کے سالانہ بجٹ کا ایک فیصد ہے، اور جنگ کا فاتح ایران ہے۔
• افغانستان اور یمن کا فوجی بجٹ ایران سے بھی کم ہے، پھر بھی امریکہ شکست کھا چکا ہے اور اور یہ دونوں ممالک فاتح ہیں۔
• امریکی ماہرین خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ امریکی فوج ایران کے مقابلے میں، شکست کھا چکی ہے۔
• امریکہ زرخیز زمین، پانی، توانائی اور قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے اور پوری دنیا کے ممتاز سائنسدانوں کو بھی اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی دولت اور وسائل کے باوجود 39 ملین امریکی غربت کی لکیر (Poverty line) سے نیچے کیوں ہیں؟
• امریکہ دوسروں پر جارحیت اور لوٹ مار کے بغیر بھی خوشحال ہو سکتا ہے، پھر جارحیت کیوں کرتا ہے اور اس ملک میں کروڑوں افراد بے گھر کیوں ہیں؟
• امریکی صدور کی اولین ترجیح صہیونی شرکاء کے مفادات ہیں۔
• امریکی عوام پوچھ لیں کہ ان کے صدر کی دولت صدارت کے آغاز سے اب تک کس حد تک بڑھ گئی ہے؟
• امریکی عوام اپنے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔
• امریکہ میں صحت کا جامع نظام موجود نہیں ہے؛ ایمبولینس کی فیس ادا نہ کر پانا، عام مسئلہ ہے۔
• ہتھیاروں کی تیاری اور برآمد سے کس کو فائدہ پہنچتا ہے، آمدنی کی رقم کس کی جیب میں جاتی ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ