بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی قدامت پسند صحافی، عراق کے خلاف امریکی جنگ کے معمار، پالیسی تجزیہ کار اور امریکی صدر ٹرمپ کے سابق حامی رابرٹ کیگن (Robert Kagan) رابرٹ نے دی اٹلانٹک میں 'ایران غالب () طاقت' ()کے عنوان سے اپنے مضمون میں لکھا:
برسوں تک یہ خطہ ایک امریکی سپر پاور کے تسلط میں تھا۔ آج ایران بالکل نئی صورتحال میں ہے۔
یہ ملک سپر پاور اور اسرائیل کے سامنے براہ راست کھڑا ہو گیاا، ان کے جدید ہتھیاروں کے حملوں کا مقابلہ کیا اور کامیاب رہا۔
نتیجے کے طور پر، ایران نے امریکہ کی مدد سے مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں طاقت کا ڈھانچہ مکمل طور پر بدل دیا ہے۔
اس خطے میں مسلط طاقت اب ایران ہوگا، امریکہ یا اسرائیل نہیں۔ پڑوسی ممالک اس وقت اس نئی حقیقت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ دور دراز کی طاقتیں بھی یہی کچھ کریں گی۔
برسوں تک دنیا ایک ایسے ایران کا سامنا کر رہی تھی جس پر بہت سی پابندیاں تھیں۔ اب دنیا دیکھے گی کہ "پابندیوں اور ان کے کھڑے کئے گئے مسائل سے آزاد ایران کی شکل و صورت کیا ہے۔"
ایران کو امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ عام خیال کہ کمزور ایران بالآخر امریکی طاقت کے سامنے جھک جائے گا اور آبنائے ہرمز کھل جائے گا، غلط ثابت ہؤا ہے۔
ایران نے فوجی جھڑپوں کا مرحلہ پیچھے چھوڑ کر مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔ واشنگٹن نے معاشی بحران اور میزائلوں کے ذخائر کی کمی کے خدشے کی وجہ سے فوجی حملے روک دیئے ہیں۔
تہران نے اب آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ساتھ ایک نیا نظام نافذ کر دیا ہے اور خطے کے ممالک مجبور ہیں کہ خود کو اس نئی اسٹراٹیجک حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔
فائننشل ٹائمز:
ایران کی جنگ نے امریکہ کو بھاری معاشی ضرب لگائی ہے۔ جنگ کے اثرات امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں پر نمایاں ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں ڈیزل کی قیمت بائیڈن کے دور میں ریکارڈ کی گئی سطح سے بڑھ گئی ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیو ہانکے (Steve Hanke):
ٹرمپ نے تباہ کن اسٹراٹیجک شکست کھانے کے بعد معاشی جنگ کا سہارا لیا ہے۔ پابندیاں اور دباؤ صرف ایران کی سودے بازی کی طاقت بڑھاتا ہے اور متبادل اتحادوں کو مضبوط کرتا ہے۔
کانگریس کے ریپبلکن رکن، تھامس میسی (Thomas Massie):
ٹرمپ کو "سرخ گوشت (Red meat)" کے بارے میں اپنی تباہ کن پالیسی کی وجہ سے مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، "ایک بل" کی وجہ سے امریکہ کا قرض 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، وہ ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے میں پھنس گیا ہے اور درمیانی مدت کے انتخابات میں شکست سے صرف چند ہفتے دور ہے۔
امریکی قومی سلامتی کونسل کے سابق تجزیہ کار ڈیوڈ روتھکوف (David Rothkopf):
ایران کے ساتھ جنگ اور پیٹ ہیگستھ اور اس کے ساتھیوں کی بدانتظامی نے امریکہ کے درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کے ذخائر خالی کر دیئے، بحری بیڑوں کو فرسودہ کر دیا۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی نے منظم طریقے سے چین، روس اور ایران کے حق میں کام کیا ہے اور امریکہ اسٹراٹیجک خودکشی کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: محمد ایمانی، کالم نگار روزنامہ کیہان
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ