17 جولائی 2010 - 19:30

دو روز قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرجناب احمدی نژاد نےنیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے دفترمیں این پی ٹی معاہدے پرنظرثانی کانفرنس میں جوخطاب کیا تھا اس کی گونج عالمی ذرائع ابلاغ ميں ابھی بھی سنائی دے رہی ہے ۔

عالمی ذرائع ابلاغ نے جنھوں نے نیویارک کانفرنس کوامریکہ اورایران کی براہ راست محاذ آرائی کانام دیا ہے کھل کراس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس سیاسی میراتھن کے آغازمیں ہی ایران کوامریکہ پربرتری حاصل ہوگئی ہے ۔معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمزنے لکھا ہے کہ امریکہ اورایران نے این پی ٹی جائزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب کوایٹمی پروگراموں کے بارے میں اپنے نظریات بیان کرنے کے لئے استعمال کیا ۔نیویارک ٹائمزنے اپنی اس رپورٹ میں لکھا کہ ایران کے صدراحمدی نژاد نے کہاہے کہ ایٹمی طاقتوں کی کوشش ہے کہ وہ ان ملکوں کوجن کے پاس ایٹمی اسلحے نہيں ہيں مرعوب کریں۔ ایران کے صدرنے کہا کہ امریکہ نے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا ہے ۔نیویارک ٹائمزنے لکھا کہ ایران کے صدرنے کہا کہ چونکہ امریکہ وہ پہلا ملک ہے جس نے ایٹم بم استعمال کیاہے اسی لئے عالمی سطح پراس کے تئیں نفرت بھی سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ نیویارک ٹائمزکے مطابق جس وقت ڈاکٹراحمدی نژاد نے یہ بات کہی اس موقع پرکانفرنس میں موجود امریکی نمائندے اورساتھ ہی فرانس اسرائیل اوربرطانیہ کے نمائندے اٹھ کرچلے گئے ۔ اس درمیان بی بی سی ٹی وی چینل نے بھی رپورٹ دی ہے کہ کانفرنس پرحکمفرما ماحول کچھ ایسا تھا گویا ایران اورامریکہ کے درمیان ایک طرح کی محاذآرائي ہورہی ہے بی بی سی کے مطابق ایران کے صدرنے امریکہ کے اس الزام کوسختی کے ساتھ مسترد کردیا کہ تہران خفیہ طورپرایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے ۔بی بی سی کے بقول انھوں نے کہا کہ اصل مشکل ایٹمی اورغیرایٹمی ملکوں کے درمیان شگاف ہے انھوں نے حاضرین کوخطاب کرتے ہوئے کہاکہ انسانی تاریخ میں اب تک صرف امریکہ ہی ایک ایساملک ہے جس نے ایٹم بم استعمال کیا ہے ۔بی بی سی کے مطابق ایران کے صدرنے اس کانفرنس میں خود کوغیرایٹمی ملکوں کا نمائندہ متعارف کراکے یہ ثابت کردیا کہ نیویارک میں آئندہ ایک مہینے تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں محاذآرائی کا یہ پہلا راؤنڈ ہے ۔دوسری طرف لومونڈ اخبار نے اپنی ویب سائٹ ميں لکھا ہے کہ ایران کے صدرنے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرزمیں امریکہ کی رکنیت پربھی سوالیہ نشان لگایا انھوں نے کہا جس ملک نے ایٹم بم کا استعمال کیا ہو اوردوسروں کوایٹمی حملے کی دھمکی دے رہا ہواس کوبورڈ آف گورنرکی رکنیت کا حق کیونکرحاصل ہے ؟برطانوی اخبار گارڈين نے بھی لکھا کہ جس وقت ایران کے صدرکے خطاب کےدوران امریکہ، برطانیہ اوربعض ديگریورپی ممالک کے نمائندے اپنی نشستیں چھوڑکرجارہے تھے اس وقت کانفرنس ميں موجود دنیا کے تقریبا سبھی ملکوں کے مندوبين نےجن میں برازیل پیش پیش تھا ایران کے صدرکے بیان کا، تالیاں بجاکرپرجوش خیرمقدم کیا اخبارنے لکھا کہ ان ممالک میں ناوابستہ تحریک کے ایک سواٹھارہ ملکوں کے مندوبین خاص طورپرشامل تھے ۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق نمائندے جان بولٹن نے بھی فاکس نیوزچینل سے اپنی گفتگومیں کہاکہ اس کانفرنس ميں دنیا کے ایک سوبانوے ملکوں نےشرکت کی بنابریں دنیا کے بیشترملکوں نے ایران کے صدراحمدی نژاد کے خطاب کوبہت ہی دلچسپی کے ساتھ سنا اوریہ بذات خود احمدی نژاد اورایران کے موقف کے لئے ان ملکوں کی اخلاقی حمایت ہے برطانوی اخبار فائننشیل ٹائمزنے بھی لکھا کہ این پی ٹی  جائزہ کانفرنس میں ایران کے صدرکی شرکت نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکہ کی کوششوں کومزید پیچیدہ کردیا ہے ۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے بھی اس کانفرنس میں ایران کے صدراحمدی نژاد اورامریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی تقریروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جس طرح سے ایران کے صدرنے این پی ٹی پرنظرثانی کے لئے تجاویزپیش کی ہیں وہ بہت ہی اہمیت کی حامل ہيں ۔ ایسوشی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے اس کانفرنس میں احمدی نژاد کسی بھی ملک کے واحد صدرکی حیثیت سے شریک ہوئے ایسوشی ایٹڈ پریس نے لکھا کہ ایران کے صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اوراس کے اتحادیوں نے ایران پر پرامن ایٹمی سرگرمیوں سے انحراف کرنے کا الزام لگایا جبکہ انھوں نے ابھی تک اپنے ان دعوؤں کو ثابت کرنے کے لئے ایک بھی ثبوت پیش نہيں کیا ۔یاد رہے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے اس کا نفرنس ميں اپنے خطاب کے دوران این پی ٹی پرنظرثانی کے تعلق سے گیارہ تجاویزپیش کیں اوراین پی ٹی کی راہ میں حائل مشکلات کوبیان کیا۔ انھوں نے سب سے پہلی  تجویزدی کہ این پی ٹی کا نام بدل کرڈی این پی ٹی رکھا جائے یعنی ایٹمی ترک اسلحہ اورایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدہ رکھا جائے اورپھر اس پرعمل درآمدکویقینی بنانے کےلئے بھی ٹھوس تدابیراختیارکی جائيں ۔صدراحمدی نژاد کے خطاب کی اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اورکانفرنس کے صدرسمیت دنیا کے تقریبا سبھی ملکوں نے حمایت کینیویارک میں قیام کے دوران  اسلامی جمہوریہ ایران کےصدرڈاکٹراحمدی نژادنے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات میں کہاکہ ایران منطق اورگفت وشنید پریقین رکھتا ہے اورمختلف مسائل ومعاملات میں یورپی یونین کے ساتھ تعاون کرنے کوتیار ہے اقوام متحدہ میں این پی ٹی جائزہ کانفرنس کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرکا خطاب اس قدرمحکم ومدلل تھا کہ امریکیوں کے پاس جواب میں کہنے کے لئے کچھ بھی نہيں تھا امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنی تقریرمیں کہا کہ انھیں ایران کے صدرکے بیان پرکوئی حیرت نہيں ہوئی ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے صدرکی طرف سے اس کانفرنس میں پیش کي گئی تجاویزنے امریکہ کوبین الاقوامی سطح پرمزید الگ تھلگ کردیا ہے اوراس چیزکوامریکی وزیرخارجہ کی پریس کانفرنس میں بھی بخوبی دیکھا جاسکتا تھا امریکی وزیرخارجہ اس پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کرنے پرمجبورہوگئیں کہ امریکہ اورروس کے پاس دنیا کے کل ایٹمی ہتھیاروں کا انسٹھ فیصد ہے ۔

1

ایران کے صدرجناب احمدی نژاد کے خطاب پرنظررکھنےوالے دنیا کے بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں ایران کے صدرنے این پی ٹی کے اغراض ومقاصد کوایک بارپھر زندہ کردیا اورایٹمی میدانوں میں دوہرے معیار اپنانےوالے ایٹمی ملکوں کے چہروں کوبے نقاب کردیا این پی ٹی کے آرٹیکل چارکے مطابق پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی ٹکنالوجی سے استفادہ کرنا سبھی ممبرملکوں کا حق ہے اورساتھ ہی اس کے آرٹیکل چھ میں کہا گیا ہے کہ جن ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیارہیں وہ اپنے ایٹمی ہتھیارنابود کردیں لیکن جن ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیارموجود ہيں وہ بدستور ایٹمی ہتھیاربنانے اوراپنے دفاع کے لئے ایٹمی ہھتیارمحفوظ رکھنے کی ضرورت پرزوردے رہے ہیں ۔ اس طرح کے غیرمنطقی نظریات کے باوجود امریکہ کا دعوی ہے کہ ایران اپنے پرامن ایٹمی پروگرام سے منحرف ہوگیا ہے لیکن امریکہ  نے ابھی تک اپنے اس دعوے کی دلیل میں کوئی ميں ثبوت پیش نہيں کیا ہے جبکہ ایران نے این پی ٹی اورسیف گارڈ جیسے معاہدے کی بھرپورپابندی کی ہے جس کی آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے بارہا تصدیق بھی کی ہے انہی تمام ترصورت حال کے پیش نظراسلامی جمہوریہ ایران کے صدرجناب احمدی نژاد نے این پی ٹی پرنظرثانی کانفرنس ميں اپنے تاریخی خطاب میں جہاں این پی ٹی اورسلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاحات کوناگزیرقراردیا وہيں ایٹمی طاقتوں اورخاص طورپرامریکہ کے ذریعہ ایٹمی میدانوں میں  اپنائے جارہے دوہرےمعیاروں کوچیلنج کرتے ہوئے امریکی اقدامات اورپالیسیوں کوہی امن عالم کے لئے سب سے بڑا خطرہ ثابت کیا اوریہ وہ نکات تھے جن کی حاضرین اجلاس نے باربار تالیاں بجاکربھرپور اندازمیں تائید کی ۔اورچاہتے ہوئے بھی امریکی اورمغربی ذرائع ابلاغ ایران کے صدرکے خطاب کی عالمی گونج پراثراندازنہ ہوسکے ۔کیا شیطانی قوتیں کبھی ایک مومن اورمجاہد کی گھن گرج کودباسکتی ہیں ؟ ہرگزنہيں . ..............

/110