بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مورخہ 28 فروری 2026ع، وہ دن جسے عالمی جغرافیائی سیاست کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر درج کیا جائے گا۔ اس دن، امریکہ اور اسرائیل نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ایران کے خلاف وسیع حملے شروع کئے۔ واشنگٹن کا اعلان کردہ مقصد سادہ اور واضح تھا: "ایران کو بطور علاقائی طاقت ختم کرنا"۔ لیکن سات ماہ بعد کی میدانی حقیقت نے دنیا کو بالکل مختلف تصویر دکھائی ہے۔ امریکہ اس جنگ میں ـ جو اس نے خود شروع کی تھی ـ نہ صرف اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پایا، بلکہ ایک اسے ایسے واقعے کا سامنا کرنا پڑا جس نے بین الاقوامی نظام کے فارمولوں کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا: یک قطبی دنیا کے وہم کا خاتمہ۔
کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر، جیفری ساکس (Jeffrey D Sachs) نے اس حقیقت کو بخوبی بیان کیا ہے: "ایران کی جنگ وہ لمحہ تھا جب امریکہ کی مطلق طاقت کا افسانہ حقیقت کی پتھریلی دیوار سے ٹکرایا"۔ یہ صرف ایک حکومت یا ایک صدر کی شکست نہیں تھی، بلکہ اس نے "سرد جنگ کے بعد امریکی خارجہ پالیسی کے پورے منصوبے کی تباہی" کو نمایاں کر دیا۔ واشنگٹن سنہ 1991ع میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد کے عارضی خلا کو دائمی تسلط سمجھ بیٹھا، لیکن "یک قطبی دنیا کا خیال شروع ہی سے ایک وہم تھا"۔ ایران نے 2026 میں اس وہم کو ہمیشہ کے لئے توڑ دیا۔
ساتواں اور اخری حصہ: ایران کی محوریت پر کثیر قطبی عالمی ترتیب کا طلوع
سنہ 2026ع میں ایران کے خلاف کی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، بین الاقوامی نظام [یا عالمی ترتیب] کی تاریخ میں ایک موڑ ثابت ہوئی۔ گذشتہ سات مہینوں میں جو کچھ ہؤا، وہ ایک عام فوجی تنازع نہیں تھا بلکہ ایک 'سوپر پاور' کا ایک 'قدیم تہذیب کے غیر متزلزل عزم سے ٹکراؤ' تھا۔ اس ٹکراؤ کا نتیجہ 'یک قطبی دنیا کے وہم کا زوال' اور ایران کے محور پر کثیر قطبی عالمی نظام [ترتیب = world order] کا طلوع ہے۔
ایران اس جنگ سے ایک ٹوٹی ہوئی ریاست کے طور پر نہیں، بلکہ اس جنگ سے مغربی ایشیا میں غالب طاقت اور عالمی کلیات و معاملات میں مؤثر کھلاڑی کے طور پر عہدہ بر آ ہؤا ہے۔ یہ ایران ہے جس نے آبنائے ہرمز میں کھڑے ہو کر عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ یہ ایران ہے جس نے اپنے ڈرون ٹیکنالوجی سے یوکرین میں طاقت کا توازن بدلا ہے۔ یہ ایران ہے جس نے اپنی تاریخی مزاحمت و مقاومت سے امریکہ کی مطلق طاقت کا افسانہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کے مقبرے میں دفنا دیا ہے۔
چین اور روس، عظیم طاقتیں اور ایران کے تزویراتی دوست ہیں، لیکن کوئی بھی ایران جتنا نئے عالمی نظام کی تشکیل میں کردار ادا نہیں کر پایا ہے اور نہیں کر پائے گا۔ وہ ایران کے اتنے محتاج نہیں ہیں جتنا کہ وہ مشترکہ دشمن کے مد مقابل ایران کی استقامت، ثابت قدمی اور پامردی کے محتاج ہیں۔
جو یک قطبی نظام واشنگٹن نے سوویت یونین کے انہدام کے بعد دنیا پر مسلط کیا، شروع ہی سے ایک وہم تھا، اور ایران نے 2026 میں اس وہم کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ دنیا اب ایک نئے نظام کے طلوع کی گواہی دے رہی ہے؛ ایک کثیر قطبی نظام جس میں ایران بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ یک قطبی دنیا ختم ہو چکی ہے؛ ایران اور اس کی عظیم قوم، یک قطبی نظام کے اس تاریخی خاتمے کے معمار ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ