اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے مسقط میں انصاراللہ کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ محمد عبدالسلام سے ملاقات کی۔ عبدالسلام نے یمن کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، اقتصادی و انسانی پابندیاں اٹھانے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے مطالبات دہرائے۔
دوسری جانب یمن کے میدان جنگ میں انصاراللہ نے تعز کے جنوبی علاقوں کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یمنی فورسز نے راسن اور بنی عمر کے علاقوں کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور جرداد کے علاقے میں سعودی حمایت یافتہ عناصر کے ساتھ شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انصاراللہ تعز کے جنوب میں اہم سپلائی لائنز منقطع کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
انصاراللہ کے رہنما سید عبدالملک الحوثی نے ترکی اور پاکستان کو سعودی دباؤ میں آکر یمن کے خلاف کسی کارروائی میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے سعودی جارحیت اور ناکہ بندی کا خاتمہ اور یمنی عوام کو ان کے تیل، گیس اور دیگر قومی وسائل سے فائدہ اٹھانے کا حق دینا ضروری ہے۔
ادھر ایک یمنی فوجی ذریعے نے الاخبار کو بتایا کہ سعودی عرب کے خلاف یمنی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ذریعے کے مطابق حالیہ کارروائی میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جنوبی سعودی عرب میں فوجی اڈوں اور یمن کے خلاف استعمال ہونے والے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
آپ کا تبصرہ