18 ستمبر 2026 - 22:03
انصار اللہ یمن کی تیزرفتار پیشقدمی، ایم بی ایس کی چین اور ایران سے التجا

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ دی کہ سعودیوں نے یمن میں انصاراللہ کی افواج کی مزید پیش قدمی روکنے کے لئے چین سے ثالثی کرنے کی درخواست کی ہے، کہ وہ ایران سے کہہ دے کہ انصار اللہ کی پیشقدمی کم کرنے یا روکنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے!

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ دی ہے کہ یمن میں انصار اللہ کی افواج کی پیش قدمی کے مقابلے میں امریکی مدد سے ریاض کی مایوسی کے بعد، ـ اب سعودی عرب نے چین سے کہا ہے کہ وہ ایران سے کہہ دے کہ یمنی افواج کی پیش قدمی کو کم کرنے اور روکنے کے لئے ان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

روئٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے، ـ جو اس کے بقول ایرانی ہیں ـ رپورٹ دی کہ سعودی عرب کی طرف کی مدد کی درخواست کے بعد چین نے نجی اور غیر رسمی طور پر تہران سے کہا ہے کہ وہ یمن میں انصاراللہ کے حملوں اور پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کرے۔

روئٹرز کے مطابق، آگاہ ذرائع نے کہا کہ سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے انصار اللہ کی تیزرفتار پیش قدمی کے بعد چین سے مدد مانگی اور اس درخواست کے بعد بیجنگ نے تہران کو ایک خفیہ پیغام بھیجا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے حکومت پاکستان کے ذریعے بھی ایران کے ایسے ہی پیغامات بھجوائے ہیں۔

انصاراللہ کی افواج نے گذشتہ دنوں میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے آس پاس کے علاقوں میں عدیم المثال پیش قدمی کی ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ سرگرمیاں سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اس سے پہلے خبر رساں ویب گاہ 'ایکسیوس' نے رپورٹ دی تھی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے دو بار ـ یمن میں انصاراللہ کے حملوں کے مقابلے کے لئے ـ مدد، اور فوجی مداخلت کی درخواست کی تھی، لیکن واشنگٹن نے دونوں بار ان درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

علاوہ ازیں، روئٹرز نے یہ خبر بھی دی ہے کہ امریکی حکام نے حال ہی میں عمان میں انصار اللہ کے حکام سے ملاقات کی ہے۔

روئٹرز نے مزید کہا کہ چین نے اپنے عمومی موقف میں اب تک ضبط نفس، بات چیت اور بحری راستوں میں سلامتی کی بحالی پر زور دیا ہے، لیکن ایرانی ذرائع کہتے ہیں کہ بیجنگ کا نجی پیغام اس عمومی موقف سے بڑھ کر تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق، چین نے ایران سے کہا ہے کہ وہ یمنیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرے تاکہ بحران توانائی کے ان راستوں تک نہ پھیلے جن پر دنیا کی دوسری بڑی معیشت 'چین' انحصار کر رہا ہے۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ یہ درخواست ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بدھ کے روز چین کے دورے کے دوران پیش کی گئی یا کسی اور ذریعے سے تہران بھجوائی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha