بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی وزارت جنگ (پینٹاگون) کے نگران ادارے نے ایران کے ساتھ جنگ میں اس ملک کے فوجی سازوسامان اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں اپنی پہلی سرکاری رپورٹ پیش کی ہے اور اعتراف کیا ہے کہ مغربی ایشیا کے پورے خطے میں امریکی اڈوں میں موجود سینکڑوں عمارتوں اور ڈھانچوں کو ایرانی حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل پلیٹ بی مورنگ (Platte B. Moring) نے اس خصوصی رپورٹ میں، جو پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کے دفاتر، امریکی وزارت خارجہ اور امریکی بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی کی طرف سے تیار کی گئی ہے اور پیر کے روز شائع ہوئی، امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ (سینٹ کام) کے ساتھ اپنے رابطوں کے حوالے سے اعتراف کیا کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں ایران کے حملوں نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں میں موجود سینکڑوں عمارتوں اور ڈھانچوں کو تباہ کر دیا ہے یا انہیں نقصان پہنچایا ہے۔
اس رپورٹ میں 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے 30 جون تک کے عرصے کا جائزہ لیا گیا ہے اور امریکہ کے کچھ کلیدی ہتھیاروں کے ذخائر میں شدید کمی کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
سی این این نیٹ ورک نے اس سے قبل رپورٹ دی تھی کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکہ کے کچھ اہم سازوسامان، بشمول میزائل دفاعی ریڈار سسٹمز، ایران کے حملوں کا نشانہ بنے اور تباہ ہوئے۔
امریکی افواج کی سرگرمیوں میں وسیع تبدیلیاں
پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل، پلیٹ بی مورنگ نے اپنی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ ایران کے حملے خطے میں امریکی افواج کی کارروائیوں کے روایتی طریقوں میں وسیع تبدیلیوں کا باعث ہوئے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، سینٹ کام نے ایران اور اس کے ہم خیال افواج کے حملوں کے جواب میں افواج، سازوسامان اور ذخائر اور مراکز کو سابقہ مراکز [اور ریاستوں] سے منتقل کر دیا ہے۔
مورنگ کے مطابق، ان تبدیلیوں میں سے ایک یہ ہے کہ امریکی فوج کے طبی انخلا کے ہیلی کاپٹروں کو عراق اور کویت سے باہر نکالا گیا ہے۔ نتیجے کے طور پر، پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق، زخمی فوجیوں کو طبی خدمات فراہم کرنے کے لئے، منتقلی کی بیشتر کارروائیاں زمینی راستے سے اور مقامی طبی مراکز کے ذریعے کی گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: شیدا فرہادیان پور
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ