بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی پائلٹ کی جانب سے آپریشنل نام "Dude 44 Bravo" کی تحت CBS چینل کے پروگرام "60 منٹ" میں پیش کیے گئے دعوے تجزیہ کاروں، ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے وسیع پیمانے پر ردعمل بنے ہیں اور انہیں اچھی خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
دوسری قسط:
انھوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ سینٹ کام کی ڈرونز کی قلت کو امریکی پائلٹ، خاص طور پر F-15 لڑاکا طیاروں کے ماڈل کے ذریعے پورا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن امریکی فوج کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ کے تجربے نے امریکی پائلٹوں کے درمیان، ایران میں کارروائیوں کے حوالے سے، شدید نافرمانی کو جنم دیا ہے؛ وہ ایران کی فضاؤں میں داخلے سے بیزار ہیں!

انھوں نے وضاحت کی کہ امریکی لڑاکا طیاروں کے پائلٹ نیز کمانڈ ہیڈکوارٹر کے کچھ جرنیل بھی اس یقین تک پہنچے ہیں کہ ایران میں کارروائی ایک ایسی قتل گاہ میں جانے کے مترادف ہے جہاں کاروائی کرنا بہت خطرناک اور وہاں سے نکلنے کا امکان بہت کم ہے؛ کیونکہ گذشتہ جنگ میں تمام لڑاکا طیاروں کے ماڈل، ـ جن میں جدید ترین ماڈلز جیسے F-35 سے لے کر A-10 تک، شامل ہیں ـ ایرانیوں کے ہاتھوں شکار ہوئے ہیں۔
سیمیاری نے مزید کہا: اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ایران نے ایئرڈیفنس ڈھانچے میں درست کوریڈورز کی شناخت حاصل کر لی ہے اور ایران میں کارروائی کی صورت میں انسانی جان خطرہ بہت یادہ ہے۔ دہشت گرد امریکی فوج کے پائلٹوں کی ان نافرمانیوں اور خوف کی وجہ سے امریکی حکومت کے وزیر جنگ ہیگستھ نے امریکی فوج کے نفسیاتی کارروائی یونٹ (یونٹ آٹھ اور چار) پر دباؤ ڈال کر ایک ڈرامائی فلم بنوائی ہے۔

جنگی ناکامیاں چھپانے کے لئے کا افسانہ سازی کا سہارا
بہرحال معاملہ ایک ٹیلی ویژن پروگرام سے کہیں بالاتر ہے۔
یونیورسٹی پروفیسر اور فوجی امور کے ماہر جناب مرتضوی نے نامہ نگاررں سے کہا: ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کے فوجی اخراجات کے علاوہ اقتصادی اور سیاسی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ میں تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، رائے عامہ کا شدید دباؤ، فوجی سازوسامان کو پہنچنے والا نقصان، اور خطے میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے میں درپیش دشواریاں، یہ سب امریکہ کے سیاسی حساب کتاب پر اثر ڈال رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا: ایسے ماحول میں، ایک ٹیلی ویژن بیانیہ سازی ـ جو سازسامان کے اخراجات اور نقصانات اور اندرونی دشواریوں سے توجہ مرکوز کرنے کے بجائے، ایک امریکی فوجی کی کامیاب نجات اور فوج کی "کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے" کی صلاحیت ـ پر مرکوز ہو، ـ ایک اخباری انٹرویو سے بڑھ کر کردار ادا کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: کامران شیرازی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ