بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی پائلٹ کی جانب سے آپریشنل نام "Dude 44 Bravo" کی تحت CBS چینل کے پروگرام "60 منٹ" میں پیش کیے گئے دعوے تجزیہ کاروں، ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے وسیع پیمانے پر ردعمل بنے ہیں اور انہیں اچھی خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
بہت سے ناظرین کا ماننا ہے کہ اس دستاویزی فلم اور انٹرویو کی اشاعت کو ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکہ کی جانب سے عوامی رائے کو کنٹرول کرنے اور اپنی فوج کی تصویر کو دوبارہ بنانے کی میڈیا کارروائی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
اس بیان بازی کے پیچھے ایک فوجی حقیقت موجود ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
تجزیہ کاروں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ایک امریکی پروگرام میں "ایک پائلٹ کی نجات" کی کہانی کا انتخاب، امریکہ کی جانب سے ایک مہنگی کارروائی کو نئے سرے سے بیان کرنے کی کوشش کا حصہ قرار دیا جاتا ہے؛ ایسی کہانی جس میں توجہ ہتھیاروں اور اوزاروں کے نقصان کی مقدار اور کارروائی کی پیچیدگی سے ہٹ کر 'انفرادی بہادری، تربیت، بقا اور اپنے اہلکاروں کو واپس لانے کے لیے امریکی فوج کے عزم' پر مرکوز کی گئی ہے۔
یہ تاثر البتہ صرف ایرانی ناقدین تک محدود نہیں ہے۔ پروگرام کی نشریات کے بعد، کچھ امریکی ابلاغیاتی کارکنوں اور ناقدین نے بھی "60 منٹ" پر الزام لگایا کہ اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے لئے حد سے زیادہ مثبت بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
یہ رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے قریبی افراد نے F-15E کے عملے کے دو ارکان کو کیمرے کے سامنے لانے کے لئے ان پر شدید دباؤ ڈالا ہے اور انہیں دھونس دھمکی کے ذریعے اس بیانئے کا حصہ بنایا گیا ہے، جس میں ٹرمپ کی مقبولیت بڑھانے کی ناکام کوشش ہوئی ہے۔

امریکی دہشت گرد فوج میں پائلٹوں کی نافرمانی کے بعد حسبِ منشا فلم بنانا
سیاسی امور اور علاقائی سلامتی کے ماہر اسٹراٹیجسٹ، مرتضیٰ سیمیاری نے ذرائع سے بات چیت کرتے ہوئے اس کہانی کا دوسرے زاویئے سے جائزہ لیا اور کہا کہ جنگ کے بعد امریکی فوج کی صورتحال نے واشنگٹن کو نفسیاتی کارروائیوں کے زیادہ وسیع استعمال کی طرف دھکیل دیا ہے۔

انھوں نے کہا: دہشت گرد امریکی فوج کی بگڑی ہوئی صورتحال کی وجہ سے ہیگستھ نے امریکی پائلٹوں کے جبری اعترافات کے مواد پر مبنی ایک فلم تیار کرنے کا اہتمام کیا؛ جبکہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ دہشت گرد تنظیم سینٹ کام (CENTCOM) ایران کے ساتھ جنگ میں پے در پے شکستوں کی وجہ سے شدید نفسیاتی نقصان کا شکار ہو چکی ہے۔

انھوں نے مزید کہا: امریکی فوجی اثاثوں کا ایک اہم حصہ ضائع ہو گیا ہے، خاص طور پر USS کلاس کے مؤثر زیرِ آب اثاثے؛ نیز ایرانی جہاز شکن میزائلوں کا گرم تجربہ (Hot testing)، اور اردن میں امریکی دہشت گردوں کے اڈوں کو فیصلہ کن شکست، انہی عوامل میں شامل ہیں۔

مرتضیٰ سیمیاری زور دیتے ہیں: سینٹ کام کو لگنے والے صدمے کا بہت اہم پہلو امریکی جنگی طیاروں سے تعلق رکھتا ہے؛ خطے میں امریکی MQ-9 ڈرونز کی موجودہ تعداد میں سے نصف سے زیادہ کو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج میں مجاہدینِ اسلام نے تباہ کر دیا ہے؛ درحقیقت تقریباً 130 MQ-9 ڈرونز میں سے تقریباً 70 عدد یا تو ذہین فضائی دفاعی نظام کے ذریعے، یا پھر دہشت گرد دشمن کے فوجی اڈوں میں شیلٹرز اور ہینگرز کے نیچے تباہ کئے گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: کامران شیرازی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ