12 ستمبر 2026 - 04:38
سپاہ پاسداران نے طویل فاصلے سے کارروائیوں کی امریکی صلاحیت کو نشانہ بنایا ،  ڈاکٹر کلانتری - 3

اسٹریٹجک امور کے ماہر نے کہا: گذشتہ منگل (8 ستمبر 2026ع‍) کی رات سپاہ بحریہ کی جدید امریکی زیر آب ہدف کے شکار کی کارروائی نے امریکی فوج کی دور دراز کارروائیوں کی فوجی صلاحیت کو نشانہ بنایا اور دنیا کے لئے اہم اسٹریٹجک پیغامات رکھتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسٹریٹجک امور کے ماہر اور ایران کی اعلیٰ قومی دفاعی یونیورسٹی کے پروفیسر و فیکلٹی ممبر، ڈاکٹر فتح اللہ کلانتری نے فارس خبر ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی انقلاب کی بحریہ کی گذشتہ منگل کی رات کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

تیسری اور آخری قسط:

ہرمز کی جنگ میزائل اور ڈرون سے آگے بڑھ گئی ہے

اس کارروائی کا چوتھا نتیجہ یہ تھا کہ یہ کارروائی امریکہ کے لئے ایک معلوماتی شکست اور رسوائی ہے؛ کیونکہ یہ دنیا کو بتا رہی ہے کہ ہرمز کی جنگ محض میزائل اور ڈرون لڑائی کی حالت سے نکل گئی ہے۔

آج ہرمز کی جنگ صرف میزائل اور ڈرون پر انحصار نہیں کرتی؛ بلکہ سینسرز کی جنگ، الیکٹرانک جنگ کے مقابلے میں انسدادی اقدامات (Electronic Counter Measures)، زیرآب جنگ، سائبر جنگ اور میزائل کارروائی اب ـ الیکٹرانک جنگ اور سائبر جنگ کے امتزاج کی طرف ـ بڑھ گئی ہے اور میرا جائزہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے صلاحیتوں کے اس امتزاج کو ایجنڈے پر رکھا ہے۔

لہٰذا منگل کی رات کی کارروائی کو صرف ایک فوجی اقدام نہیں سمجھنا چاہئے؛ بلکہ اس کے ادراکی، میزائلی، سائبر اور الیکٹرانک جنگ کے مقابلے میں انسدادی اقدامات جیسی جہتوں کو بھی دیکھنا چاہئے۔

میرا ماننا ہے کہ امریکہ کی معلوماتی شکست کی اہمیت یہ ہے کہ زیرآب آلات اور آبدوزیں ـ جو اس ملک میزائل جنگی صلاحیت کے سب سے خفیہ اور انتہائی خوفناک ذرائع میں شمار ہوتی تھیں، ـ اب ماضی کی طرح محفوظ نہیں رہی ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی دسترس میں، اور اس کی مسلح افواج کی زد میں آ گئی ہیں۔

کارروائی کا ایک اور پیغام یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے صرف میزائل-ڈرون صلاحیت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ٹیکنالوجی کی اعلیٰ سطح تک رسائی حاصل کر لی ہے؛ ایسی صلاحیتیں جو میری رائے میں سائبر کارروائیوں اور الیکٹرانک جنگ کے مقابلے میں انسدادی اقدامات کے استعمال سے امریکی بحری اور زیرآب آلات کو نشانہ بنانے کا امکان فراہم کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے میں اس کارروائی کے ادراکی نتائج کو اس کے فوجی نتائج سے کہیں زیادہ اہم سمجھتا ہوں۔

خلیج فارس کی علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل نو

یہ کارروائی ایک اسٹریٹجک فتح اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جنگی حکمت عملی میں ایک نیا سنگ میل ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی جنگی-تزویراتی حکمت عملی میں مکمل اور انقلابی تبدیلی کا باعث بنی ہے۔

امریکہ کے ریموٹ کنٹرولڈ بحری جہازوں کو کارروائی کا پیغام

جدید بحری اور بغیر عملے کے آلات کے شعبے میں دو چیزیں موجود ہیں: "ریموٹ گائیڈڈ بحری جہاز"، اور "ریموٹ گائیڈڈ آبدوزیں"۔

گذشتہ منگل (8 ستمبر 2026ع‍) کی رات سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی کارروائی کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ امریکہ کے "ریموٹ گائیڈڈ بحری جہاز"، اور "ریموٹ گائیڈڈ آبدوزیں" اب نہ صرف خلیج فارس میں بلکہ بحیرہ عمان میں بھی ہلنے جلنے کے امکان سے محروم ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha