بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسٹریٹجک امور کے ماہر اور ایران کی اعلیٰ قومی دفاعی یونیورسٹی کے پروفیسر و فیکلٹی ممبر، ڈاکٹر فتح اللہ کلانتری نے فارس خبر ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی انقلاب کی بحریہ کی گذشتہ منگل کی رات کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
دوسری قسط:
جنگ کے ماحول، شکل اور حکمت عملی (Strategy) کی بیک وقت تبدیلی
اس کارروائی کا پہلا پیغام یہ ہے کہ اسے محض ایک فوجی تدبیر (Tactic) کی کامیابی نہیں سمجھنا چاہئے۔ میرے نقطہ نظر سے، امریکی زیر آب آلات کو نشانہ بنانا اور تباہ کرنا تزویراتی جہتوں کا حامل ہے؛ لیکن معاملے کی اہمیت صرف خود اس آلے (اور اوزار یا ہتھیار) کی تباہی تک محدود نہیں ہے۔ خود آلات سے زیادہ اہم جنگ کے ماحول کی تبدیلی ہے۔
درحقیقت، تین اہم واقعات بشمول جنگ کے ماحول کی تبدیلی، جنگ کی شکل کی تبدیلی اور جنگ کی حکمت عملی (Strategy) کی تبدیلی، اس کارروائی کے بدولت، ایک ساتھ اور بیک وقت رونما ہوئی ہیں۔ یہی معاملہ اس بات کا سبب بنتا ہے کہ ہم کارروائی کے اثرات کو ایک آلے یا ایک فوجی وسیلے کو پہنچنے والے نقصان سے بڑھ کر جانچ لیں۔
امریکیوں کے لئے آب زیر آب ماحول محفوظ نہیں رہا
دوسرا پیغام یہ ہے کہ زیرآب ماحول اب امریکیوں کے لئے محفوظ، پرامن اور قابل اعتماد نہیں رہا۔ میری رائے میں، اس کارروائی نے دکھایا کہ حتیٰ کہ اس ماحول میں بھی جسے امریکہ محفوظ قرار دیتا تھا، ہماری طرف سے نفوذ اور معلومات تک رسائی کا امکان موجود ہے۔
اس حصے کا بنیادی پیغام سپاہ پاسداران زیر آب شعبے میں بھی دشمن کے خفیہ ہتھیاروں کا کھوج لگانے اور تعاقب کرنے کی صلاحیت تک رسائی رکھتی ہے؛ ایسے آلات جنہیں امریکی سب سے محفوظ ذرائع اور میزائل داغنے کے بہترین پلیٹ فارم سمجھتے تھے۔
میں اس معاملے پر زور اس لئے دے رہا ہوں کہ امریکی اس سے قبل فضائی طاقت، خصوصاً ایف 35، پر انحصار کرتے تھے اور اس کے بعد بحری اور زیرآب صلاحیت پر زیادہ انحصار کرنے لگے۔ اب میرا جائزہ یہ ہے کہ یہ ماحول بھی اب ان کے لئے ماضی کی طرح محفوظ نہیں ہے۔
تکنیکی معلومات کی اہمیت اور ریورس انجینئرنگ کی صلاحیت
کارروائی کا تیسرا نتیجہ تکنیکی معلومات تک رسائی ہے۔ شاید خود زیرآب وسیلہ یا آبدوز ہمارے لئے اس کی تکنیکی معلومات جتنی اہم نہ ہو۔ تکنیکی معلومات ٹیکنالوجی کی شناخت اور نئی صلاحیتوں تک رسائی کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
ہمیں اس سے قبل امریکی ڈرون RQ-170 حاصل کرنے کا تجربہ ہے۔ جب ہم نے یہ ڈرون حاصل کیا، تو فوری طور پر اس کی ریورس انجینئرنگ ایجنڈے پر رکھی گئی اور ہم نے اس کی ٹیکنالوجی کو ڈرون صلاحیت کی ترقی کے لئے استعمال کیا؛ اور آج میرا جائزہ یہ ہے کہ ایران دنیا کی چوتھی ڈرون طاقت ہے۔
اس نقطہ نظر سے، کارروائی کے سب سے اہم نتائج میں سے ایک زیرآب آلات کی تکنیکی معلومات تک رسائی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران یقیناً اس حصولیابی (Achievement) کو ریورس انجینئرنگ کے لئے استعمال کرے گا اور ان شاء اللہ مستقبل قریب میں اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجیز تک بھی رسائی حاصل کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ