10 ستمبر 2026 - 10:27
یمن پر سعودی فضائی حملوں میں تیزی، 12 گھنٹوں میں 54 حملے

یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی فضائی حملوں میں اچانک شدت آگئی، سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران یمن کے 6 صوبوں میں 54 فضائی حملے کیے، جبکہ یمنی مسلح افواج نے جوابی کارروائی میں سعودی عرب کے اندر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی فضائی حملوں میں اچانک شدت آگئی، سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران یمن کے 6 صوبوں میں 54 فضائی حملے کیے، جبکہ یمنی مسلح افواج نے جوابی کارروائی میں سعودی عرب کے اندر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ابنا کے مطابق یمن کے عسکری ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں نے الجوف، مأرب، تعز، الحدیدہ، صعدہ اور البیضاء کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔

ان کے مطابق حملوں میں ایف-15 جنگی طیاروں نے خمیس مشیط کے ملک خالد ایئربیس جبکہ ٹائفون طیاروں نے طائف کے ملک فہد ایئربیس سے کارروائیاں کیں۔

یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ یمن کے خلاف سعودی فضائی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی مسلح افواج نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خمیس مشیط، جیزان اور نجران سمیت سعودی عرب کے اندر مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جہاں بعض تیل تنصیبات میں بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔

انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے سعودی عرب پر اپنے کردار کو چھپانے اور پراکسی عناصر کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاض براہِ راست محاذ آرائی یا اپنے کردار کا کھلے عام اعتراف کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات بھی کھلے اور واضح انداز میں ہونے چاہئیں، نہ کہ سعودی عرب ثالث کا کردار ادا کرے۔

انصار اللہ کے ایک اور رہنما سلیم المغلس نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے خمیس مشیط کے ایک فوجی اڈے میں 73 افراد کے زخمی ہونے کا اعتراف کیا، تاہم اسے شہری نقصانات ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha