اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سینئر رہنما حجۃ الاسلام مقصود علی ڈومکی نے کابل میں حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکز کی صورتحال اور گرفتار کیے گئے علماء و اساتذہ کے بارے میں فوری طور پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
مقصود علی دومکی نے کہا ہے کہ افغانستان میں مختلف مکاتب فکر اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے تمام شہریوں کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے، عبادات انجام دینے اور دینی و علمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا بنیادی حق حاصل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کابل میں قائم شیعہ علمی مرکز حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مرکز سے وابستہ علماء اور اساتذہ کی گرفتاری انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ عظیم علمی و دینی خدمات انجام دینے والے آیت اللہ العظمیٰ محمد آصف محسنی سے منسلک ایک اہم علمی مرکز ہے، اس لیے وہاں پیش آنے والے واقعات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔
مقصود علی دومکی نے کہا کہ کسی بھی علمی، دینی یا تعلیمی مرکز کو طاقت کے زور پر اپنے قبضے میں لینا اور علماء و اساتذہ کو شفاف قانونی کارروائی کے بغیر گرفتار کرنا بنیادی انسانی اور مذہبی حقوق کے منافی ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذہبی آزادی، تعلیم اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کا احترام کرتے ہوئے گرفتار علماء اور اساتذہ کی صورتحال کے بارے میں فوری طور پر وضاحت فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی فرد کے خلاف قانونی الزام موجود ہے تو اسے شفاف عدالتی عمل کے ذریعے ثابت کیا جانا چاہیے اور کسی بھی شخص کو بغیر قانونی کارروائی کے حراست میں رکھنا قابل قبول نہیں۔
مقصود علی دومکی نے زور دیا کہ افغانستان کے تمام شہریوں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا مکتب فکر سے ہو، کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے، عبادات ادا کرنے اور دینی و علمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی یا مذہبی اختلافات کی بنیاد پر علمی مراکز، دینی مدارس اور مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سینئر رہنما نے اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، اسلامی ممالک اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کابل کے حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ کی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔
انہوں نے عالمی اداروں پر زور دیا کہ گرفتار علماء و اساتذہ کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں اور ان کے بنیادی، مذہبی اور تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں تمام مذہبی اور فکری گروہوں کے حقوق کا تحفظ خطے میں امن، استحکام اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے۔
آپ کا تبصرہ