کابل
-
کابل میں حوزہ علمیہ خاتم النبیین پر دھاوا، ساجد نقوی کا اظہار تشویش
پاکستان شیعہ علماء کونسل کے سربراہ آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کابل میں حوزہ علمیہ خاتم النبیین اور اس سے وابستہ تمدن ٹی وی پر طالبان حکومت کے دھاوے، عمارت خالی کرانے اور اساتذہ و مذہبی شخصیات سمیت درجنوں افراد کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
-
علماء کی گرفتاری اور کابل کے حوزہ علمیہ خاتم النبیین پر قبضہ قابل مذمت ہے
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سینئر رہنما حجۃ الاسلام مقصود علی ڈومکی نے کابل میں حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکز کی صورتحال اور گرفتار کیے گئے علماء و اساتذہ کے بارے میں فوری طور پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
-
امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے:پاکستانی سفیر
کابل میں پاکستان کے سفیر عبیدالرحمان نظامانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امن کی خواہش کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔
-
کابل پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی:اقوام متحدہ
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے پاکستان کی جانب سے کابل میں ایک طبی مرکز پر مبینہ فضائی حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
-
تصویری رپورٹ| غربی کابل میں ۱,۵۰۰ شعیہ طلبہ کی گریجویشن تقریب منعقد
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، غربی کابل کے ایک بڑے تعلیمی ادارے "عبدالرحیم شہید" اسکول کے تقریباً ۱,۵۰۰ طلبہ کی گریجویشن تقریب منعقد ہوئی۔
-
طالبان نے کابل میں امام حسین (ع) کلچرل اور تعلیمی مرکز سیل کر دیا
مقامی ذرائع کے مطابق کابل کے علاقے افشار دارالامان میں واقع امام حسین (ع) کلچرل اور تعلیمی کمپلیکس طالبان کے وزیرِ انصاف کے حکم پر بند کر دیا گیا ہے۔
-
پاکستان افغانستان کشیدگی؛
طالبان - پاکستان تنازع کی بنیاد کیا ہے / موجودہ کشیدگی کے فوری حل کی ضرورت
کابل میں طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی پر آمادہ کرنے کے لئے چار سالہ صبر آزما سفارتی کوششوں کے بعد، پاکستان گویا نیا تعزیری طریقہ اپنا کر، اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے طاقت کے استعمال پر آمادہ ہؤا ہے۔
-
کابل میں ہونے والے فضائی حملوں کی خبروں کا جائزہ لیا جا رہا ہے:پاکستان
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ شب ہونے والے دھماکوں کے بعد افغان میڈیا کی جانب سے پاکستان کے مبینہ فضائی حملوں کی خبریں سامنے آئیں، جن پر اسلام آباد نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے سے متعلق اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے۔