بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || صہیونی چینل i12 نے رپورٹ دی ہے کہ صہیونی سرغنے اس تشویش میں مبتلا ہی کہ ایران کہیں ـ خاص طور پر یہودی عیدوں اور 7 اکتوبر (طوفان الاقصیٰ کی تیسری سالگردہ) اور حماس کے ہاتھوں صہیونی ریاست کی تاریخی شکست کی برسی کے موقع پر [مبینہ طور پر] پر مقبوضہ فلسطین سے باہر صہیونیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے!!، اور مقبوضہ سرزمین میں واقع اسرائیلی ٹھکانوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس عبرانی چینل نے مزید کہا کہ صہیونی اداروں کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کا اردن کی بندرگاہ عقبہ پر میزائل حملہ اسرائیل کو انتباہی پیغام بھیجنے کے لئے تھا۔
اس چینل کے اعلان کے مطابق، اتوار کو داخلی محاذ پر ہنگامی حالت کو 23 ستمبر تک توسیع دی گئی۔
لیکن اسی سلسلے میں، صہیونی چینل i15 نے بھی رپورٹ دی کہ اس ریاست اور امریکہ کا اندازہ ہے کہ فی الحال ایران مقبوضہ علاقوں کی طرف میزائل فائر کرنے کا خواہاں نہیں؛ کیونکہ اس اقدام سے کشیدگی بڑھے گی۔
اس چینل نے مزید کہا کہ اس اندازے کے مطابق، ایران میں امریکہ کے ساتھ کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں مقبوضہ علاقوں پر میزائل حملے بڑھانے کے آپشن کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں ایران کے حملے کی صورت میں صہیونی ریاست کے وزیر جنگ کی طرف کی بڑھکوں اور سخت جوابی کارروائی کی دھمکیوں کو محض مبالغہ آمیز بیانات ہی قرار دیا جا سکتا ہے، جو در حقیقت صہیونیوں کے شدید خوف کا ثمرہ ہیں۔
سپاہ پاسداران نے حال ہی میں سیریک کے مقام پر شادی کی تقریب پر طفل کُش امریکی امریکی دہشت گردوں کے ایک اور جنگی جرم کے بعد اعلان کیا کہ اس کی ایرواسپیس فورس نے "جارح کو سزا" کے عنوان سے اپنی کاروائی کی دوسری لہر میں، کوڈنیم "یا رسول اللہ (ص)" کے تحت، بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اردن میں واقع کیمپ امریکی میرینز کے 'ٹیٹین کیمپ' کو نشانہ بنایا ہے، اور اس اڈے پر امریکی تنصیبات اور فوجی آلات نیز فوجی نفری کو شدید نقصان پہنچایا۔
ٹیٹین کیمپ اس علاقے میں واقع ہے جہاں سے صرف چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر مقبوضہ فلسطین کی ام الرشراش (ایلات) بندرگاہ ایلات واقع ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے اپنے میرینز کی جان بچانے کے لئے انہیں خلیج فارس کی عرب ریاستوں سے ٹیٹین کیمپ منتقل کیا تھا، جہاں وہ محفوظ نہ رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ