بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اب جبکہ آبنائے ہرمز ایران اور امریکہ کے مابین تصادم کا محور ہے اور حکومت نے کیسپین کنونشن کو غور کے لئے پارلیمنٹ بھیج دیا ہے، ماہرین اور پالیسی سازوں کی نگاہیں شمال کی طرف مڑ گئی ہیں۔ بحیرۂ کیسپین میں ایران کی سب سے بڑی اور مصروف ترین بندرگاہ 'امیرآباد'، ] جس میں پندرہ برتھیں اور دس ملین ٹن کی نامی گنجائش ہے، ـ آج "خزر [کیسپیئن] کی درخشان موتی" کہلاتی ہے۔
اس بندرگاہ نے سن 2024 میں پانچ ملین 40 ہزار 262 ٹن مال کے تاریخی ریکارڈ کے ساتھ، شمالی بندرگاہوں کی کل کارروائیوں کا 57 فیصد حصہ اپنے نام کر دیا ہے۔ اس میں سے تین ملین چھ لاکھ 66 ہزار ٹن (تقریباً تہتر فیصد) بنیادی اشیاء سے متعلق تھا، جس نے امیرآباد کو شمالی بندرگاہوں کا غلہ مرکز اور ملک کی بنیادی اشیاء کی دوسری بڑی درآمدی بندرگاہ بنا دیا ہے۔
وسطی ایشیا اور قفقاز کے ممالک کو برآمدات بھی 20 فیصد اضافے کے ساتھ 15 لاکھ 11 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہیں۔
وہ تزویراتی فائدہ جو امیر آباد کو اپنے حریفوں سے ممتاز کر دیتا ہے
امیر آباد کا سب سے اہم کارڈ، ملک کے قومی ریلوے نیٹ ورک سے اس کا براہ راست اتصال ہے؛ اس خصوصیت نے اسے ریل نیٹ ورک سے منسلک واحد شمالی بندرگاہ بنا دیا ہے۔ یہ بندرگاہ 25 کلومیٹر کے اندرونی ریل نیٹ ورک کے ساتھ، یہ بندرگاہ (سمندری-ریل-روڈ) مربوط مشترکہ نقل و حمل پیش کرتی ہے، اس بندرگاہ میں ریلوے کے ذریعے مال کی نقل و حمل 77 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔
امیر آباد بین الاقوامی شمال-جنوب راہداری (INSTC) کے ایک اہم مرکز کے طور پر ایک بے مثال کردار ادا کرتا ہے، یہ 7,200 کلومیٹر طویل راستہ ہے جو ہندوستان کو ایران اور روس کے راستے شمالی یورپ سے ملا دیتا ہے۔ یہ کوریڈور ممبئی سے ماسکو سامان کی ترسیل میں لگنے والے وقت کو 40 دن سے کم کر کے 20 دن کر سکتا ہے۔

کیسپیئن کنونشن؛ فائدہ یا نقصان؟
بحیرہ کیسپین کی قانونی ترتیب کے کنونشن سے متعلق بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے یہ سوال پیدا ہؤا ہے کہ کیا اس کیسپیئن کی معیشت اور ٹرانزٹ میں ایران کے حصے کی ضمانت کے بغیر قانونی ڈھانچہ طے کرنا کافی ہے؟
ایران واحد ملک ہے جس نے ابھی تک اس کنونشن کی توثیق نہیں کی ہے، جبکہ چار دیگر ممالک نے اس کی توثیق کی ہے۔ ایران کی حکومت نے "خطے سے باہر کے غیر ملکی اداکاروں کی طرف سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا امکان ختم کرنے کے لئے، اسے پارلیمنٹ بھیج دیا ہے۔

بہرحال، ماہرین کا اصرار ہے کہ ایران کو صرف سمندری تہہ میں اپنے حصے کے بارے میں نہیں سوچنا چاہئے۔ بلکہ اسے یہ بھی طے کرنا چاہئے کہ اسے روس اور وسطی ایشیا کی تجارت، شمال-جنوب ٹرانزٹ، اور مستقبل کی کیسپیئن معیشت سے کیا حصہ ملے گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد کریمی
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ