اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکہ اور صیہونی ریاست کی ایران کے خلاف جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی معیشتوں کو ایک کڑے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ توانائی کی فراہمی، بحری آمدورفت اور تجارت میں رکاوٹوں کے باعث خطے کی معاشی ترقی کے امکانات منفی صورتِ حال کی طرف جا رہے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں سال خطے کی معیشت میں 1.3 فیصد سکڑاؤ آئے گا۔ اس دوران خلیج فارس کے عرب ممالک کو تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ نقصان کا سامنا ہے۔
جنگ کے اثرات صرف پیداوار اور برآمدات میں کمی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں غذائی اشیا، سمندری نقل و حمل اور بیمے کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس سے صارفین پر مہنگائی کا دباؤ اور سرکاری بجٹ کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق، 2027 میں متوقع معاشی بحالی کا انحصار جنگ میں کمی اور پیداوار و تجارت کی بتدریج معمول پر واپسی پر ہے۔
اس حوالے سے فرانس کے قومی مرکز برائے سائنسی تحقیق میں شعبۂ تحقیق کے سربراہ اور عالمی بینک کے مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کے سابق چیف ماہرِ معاشیات رابح ارزقی کا کہنا ہے کہ خطہ غیر معمولی صورتِ حال سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق، جنگ کے اثرات کے باعث رواں سال مشرقِ وسطیٰ واحد خطہ ہو سکتا ہے جہاں معاشی ترقی کی شرح منفی رہے گی۔
ارزقی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مختلف ممالک پر جنگ کے اثرات کا انحصار آبنائے ہرمز پر ان کے انحصار کی سطح پر ہے۔ توانائی اور تجارت کی اہم ترسیلات کا بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ ان کے مطابق، قطر، کویت اور بحرین جیسے ممالک اس راستے پر زیادہ انحصار کے باعث شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی معاشی ترقی کی شرح میں کمی کے باوجود ان کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہنے کی توقع ہے۔ ارزقی کے جائزے کے مطابق، عمان کا مختلف جغرافیائی محلِ وقوع بھی اسے رواں سال مثبت معاشی ترقی حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ لازماً تمام پیداواری ممالک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ پیداوار اور برآمدات میں رکاوٹیں متاثرہ معیشتوں کو بلند قیمتوں سے مکمل فائدہ اٹھانے سے روک سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
قیمتوں میں اضافے سے کہیں زیادہ نقصان
ارزقی نے وضاحت کی کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ معاشی نقصانات کی تلافی کیوں نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق، کویت، قطر اور بحرین جیسے ممالک میں پیداوار کی سطح میں کمی سے ہونے والا نقصان ممکنہ اضافی آمدنی سے زیادہ ہے، جو بلند قیمتوں کے نتیجے میں حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، پیداواری بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو اور اسے دوبارہ فعال کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعداد و شمار بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہیں۔ اس ادارے نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں سال خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی معیشتوں میں 4.8 فیصد سکڑاؤ آئے گا، جبکہ گزشتہ سال ان معیشتوں نے 4 فیصد سے زیادہ ترقی کی تھی۔ اس وقت جنگ کے باعث توانائی اور تجارت کے شعبوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے مکمل اثرات سامنے نہیں آئے تھے۔
ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے گزشتہ ماہ تک قدرتی گیس کی قیمت میں 150 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں طیاروں کے ایندھن کی قیمت 85 فیصد، ڈیزل کی تقریباً 70 فیصد اور پٹرول کی 45 فیصد بڑھ گئی۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ توانائی، کیمیائی کھاد، سمندری نقل و حمل اور بیمے کے اخراجات بڑھنے کے باعث رواں سال عالمی سطح پر غذائی اشیا کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ ہوگا۔
اس ادارے نے ایک زیادہ تشویش ناک صورتِ حال سے بھی خبردار کیا ہے۔ اگر جنگ اور پیداوار و تجارت میں رکاوٹیں آئندہ سال کی دوسری سہ ماہی تک جاری رہیں تو تیل کی اوسط قیمت 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں، تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود متاثرہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 4 فیصد کمی آ سکتی ہے۔
تیل درآمد کرنے والی معیشتیں؛ نسبتاً زیادہ گنجائش، مگر دباؤ برقرار
دوسری جانب، تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشتیں متاثرہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں سال ان معیشتوں میں 4 فیصد سے زیادہ ترقی ہوگی۔ اس ترقی کو اندرونی طلب، بیرونِ ملک کام کرنے والے افراد کی بھیجی گئی رقوم، سیاحت اور حکومتی اقدامات سے مدد ملے گی۔
ارزقی کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض ممالک کا جنگ کے براہِ راست اثرات سے دور ہونا انہیں نئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم توانائی اور غذائی اشیا کی درآمد کے اخراجات بدستور بلند رہیں گے۔
اس کے باوجود، حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی زیادہ صلاحیت کا مطلب یہ نہیں کہ ان ممالک پر معاشی دباؤ نہیں ہوگا۔ روزمرہ زندگی کے اخراجات میں اضافہ کم آمدنی والے طبقوں کے لیے مزید خطرات پیدا کرتا ہے۔ ارزقی کے مطابق، یہ طبقے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ توانائی اور غذائی اشیا پر خرچ کرتے ہیں، اس لیے انہیں تحفظ فراہم کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔
تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امداد کے اہل افراد کی درست شناخت اور امداد ان تک پہنچانا اب بھی حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
مالی وسائل محدود ہونے کی صورت میں سرکاری سبسڈی جاری رکھنے اور بین الاقوامی امداد پر انحصار بڑھانے سے بجٹ پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جو بیک وقت کئی معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔
اس لیے حکومتوں کے اقدامات میں ایسے طریقے شامل ہونے چاہییں جن سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقوں کی قوتِ خرید برقرار رہے، لیکن اس عمل میں سرکاری وسائل پر شدید بوجھ نہ پڑے اور مالی عدم توازن میں بھی اضافہ نہ ہو۔
2027 میں معاشی بحالی؛ جنگ کے خاتمے سے مشروط
اگرچہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو توقع ہے کہ 2027 میں خطے کی معیشت 6.6 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی، تاہم اس پیش گوئی کا انحصار جنگ میں کمی اور پیداوار و تجارت کی بتدریج معمول پر واپسی پر ہے۔
اس پیش گوئی کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ خطے کی معیشتیں دوبارہ اسی شرح سے ترقی کرنے لگیں گی جس کی توقع جنگ شروع ہونے سے پہلے کی جا رہی تھی۔
ارزقی نے زور دیا کہ بحران کا سیاسی حل معاشی سرگرمیوں کی معمول پر واپسی کا نقطۂ آغاز ہے۔ انہوں نے معیشتوں کو متنوع بنانے اور ایسے مضبوط معاشی روابط قائم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا جو اچانک بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ان کے مطابق، خطے کو درپیش چیلنج صرف موجودہ نقصانات سے نکلنا نہیں، بلکہ ان اہم راستوں پر انحصار کم کرنا بھی ہے جو رکاوٹوں اور بحرانوں کے مقابلے میں غیر محفوظ ہیں۔
آپ کا تبصرہ