اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کو سیاسی اور سکیورٹی کے میدان میں ایک پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا ہے۔ یہ ملک مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات ختم کرانے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اسی دوران اپنے ہمسایہ ممالک سے اس کی دوری بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کی چار میں سے تین ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی گزرگاہیں بند ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی اور سکیورٹی کے وسیع اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ملک کی تجارت کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، پاکستان کی سرحدی گزرگاہوں کی صورتِ حال اسلام آباد کو درپیش مشکلات کی سنگینی ظاہر کرتی ہے۔ اس وقت پاکستان کی صرف چین کے ساتھ ایک سرحدی گزرگاہ کھلی ہے، جو اس کا سب سے دور واقع ہمسایہ ملک ہے۔
پاکستان نے تقریباً آٹھ سال قبل نئی دہلی کی جانب سے کشمیر کے الحاق کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ اپنی سرحدی گزرگاہیں بند کر دی تھیں۔ افغانستان کے ساتھ بھی پاکستان کی سرحدی گزرگاہیں ایک سال سے زیادہ عرصے سے بند ہیں۔ یہ اقدام اسلام آباد کی جانب سے کابل پر مسلح گروہوں کی حمایت کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد کیا گیا، جنہیں پاکستان دہشت گرد قرار دیتا ہے۔
ایران کے ساتھ پاکستان کی چھ سرحدی گزرگاہوں کے بارے میں پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ راستے تکنیکی وجوہات اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں تعاون کے تحت بند کیے گئے ہیں۔ ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے، ان پابندیوں نے سرحد پار آمدورفت اور تجارت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پاکستان کی معیشت کے مستقبل کا کڑا امتحان
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے مرکز برائے سکیورٹی مطالعات و تحقیق کے سربراہ امتیاز گل نے خبردار کیا ہے کہ تین ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کی سرحدیں بند ہونے سے اس کی قیادت کی جانب سے مطلوبہ معاشی ترقی حاصل کرنے کی صلاحیت پر بنیادی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ چین کے ساتھ پاکستان کی واحد کھلی سرحدی گزرگاہ بھی ہر سال کی طرح دسمبر میں برف باری کے باعث بند ہو سکتی ہے۔ اس صورتِ حال سے پاکستان کی معیشت اور تجارت پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔
امتیاز گل کے مطابق، یہ حالات پاکستان کی معیشت کو ایک کڑے امتحان سے دوچار کر رہے ہیں، کیونکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ زمینی تجارت کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مالی نقصان کے ساتھ سرحدوں کے ذریعے سامان کی نقل و حرکت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
بحیرۂ عرب کی بندرگاہوں سے اسلام آباد کی امیدیں
ان مشکلات کے پیش نظر پاکستانی حکومت نے متبادل راستوں کے طور پر بحیرۂ عرب کے ساحل پر واقع اپنی بندرگاہوں سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ ان راستوں کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے اور زمینی سرحدی گزرگاہوں اور جنگ زدہ علاقوں میں واقع بندرگاہوں کی بندش کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اپنی بندرگاہوں کی سرگرمیوں کے باعث سرحدوں کی بندش کے اثرات محدود رہیں گے۔ پاکستانی حکومت کو یہ امید بھی ہے کہ مستقبل میں اسے نئے معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔
پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی و سیاسی اور علاقائی تنازعات نے سکیورٹی اور معاشی ڈھانچوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ تاہم، ان کے خیال میں پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے ایشیا کے ترقی پذیر ممالک، چین، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور بالآخر مشرقِ وسطیٰ کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ بننے کا بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔
اس کے باوجود اس بلند ہدف کے حصول میں فوری اور ٹھوس مشکلات موجود ہیں۔ ان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں کا دو گنا سے زیادہ بڑھ جانا نمایاں ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس توانائی کے ذریعے کی قیمت میں 100 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کو گیس کی فراہمی بھی بے قاعدگی کا شکار ہے، جبکہ موسمِ سرما قریب آ رہا ہے اور توانائی کی طلب میں اضافے کا امکان ہے۔
پاکستانی حکومت پر بیک وقت کئی دباؤ
ان حالات نے پاکستانی حکومت کو بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اسلام آباد کو ایک طرف توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات پر قابو پاتے ہوئے معاشی سرگرمیاں برقرار رکھنا ہیں، تو دوسری جانب اسے متعدد ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو بھی سنبھالنا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات ختم کرانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے، خطے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے اس کے عزائم اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی و تجارتی تعلقات کی حقیقت کے درمیان تضاد مزید نمایاں ہو رہا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کرانے میں پاکستان کی کامیابی اس کی سفارتی حیثیت کو مضبوط بنا سکتی ہے، لیکن بھارت، افغانستان اور ایران سے زمینی رابطوں کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔
پاکستان اس وقت ایک طرف سفارتی میدان میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی امید اور دوسری طرف علاقائی تنہائی کے خطرے کے درمیان ایک کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ یہ امتحان محض علاقائی تنازعات پر قابو پانے کی کوشش تک محدود نہیں، بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوگا کہ اسلام آباد بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے ماحول میں سکیورٹی تقاضوں اور معاشی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے اور تجارت کے مواقع برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔
آپ کا تبصرہ