23 اگست 2026 - 14:53
پہلی قسط | تہذیبی طاقت بمقابلہ فوجی طاقت / طاقت کی زبان حقیقی امن کی ضامن نہیں ہو سکتی

جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور پینٹاگون کے تھنک ٹینکس امریکی خارجہ پالیسی کو "طاقت کی زبان" سے مرتب کرتے رہیں گے، امریکہ کے ساتھ ایران کی کوئی حقیقی مفاہمت قائم نہیں ہوگی؛ یہ کوئی سیاسی پیش گوئی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک "تہذیبی حکم" ہے۔ امریکہ اب بھی ـ ایران کے ساتھ معاملات میں ـ "سلامتی کے کلاسیکی نظریات" (Classic Security Theories) کا اسیر ہے۔ [۔۔۔]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور پینٹاگون کے تھنک ٹینکس امریکی خارجہ پالیسی کو "طاقت کی زبان" سے مرتب کرتے رہیں گے، امریکہ کے ساتھ ایران کی کوئی حقیقی مفاہمت قائم نہیں ہوگی؛ یہ کوئی سیاسی پیش گوئی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک "تہذیبی حکم" ہے۔ امریکہ اب بھی ـ ایران کے ساتھ معاملات میں ـ "سلامتی کے کلاسیکی نظریات" (Classic Security Theories) کا اسیر ہے۔ وہ قدیم نظریات جو ان کی دنیا کے اس ناقابل انکار اصول پر مبنی ہیں: "کسی بھی اداکار کو کافی دباؤ کے ساتھ سر تسلیم خم کرنے کے مقام پر لا کھڑا کیا جا سکتا ہے۔"

لیکن یہ اصول کمزور حکومتوں، منتشر قوموں اور اکھڑی ہوئی تہذیبوں کے لئے کارآمد ہے۔ جبکہ ایران کے لئے یہ "حسابات اور اندازوں کی غلطی (Miscalculation)" ہے؛ کیونکہ ایران محض ایک "حکومت" نہیں ہے، یہ ایک "تہذیب" ہے اور تہذیبیں میزائلوں سے پوزیشن نہیں بدلا کرتیں؛ وہ پابندیوں کے ساتھ اپنی شناخت اور تشخص ترک نہیں کیا کرتیں اور دھمکیوں کے مقابلے میں ہتھیار نہیں ڈالا کرتیں۔

اس حقیقت کے ادراک کے لئے ضروری ہے کہ "قومی طاقت" اور "تہذیبی طاقت" کے دو تصورات میں فرق کیا جائے:

قومی طاقت کی تعریف "وسائل" کی بنیاد پر کی جاتی ہے: معیشت، فوج، جغرافیہ۔

تہذیبی طاقت "معنی" پر مبنی ہے: تاریخ، ثقافت، دین و مذہب، اجتماعی یادداشت۔

امریکہ دونوں شعبوں میں مضبوط نظر آتا ہے، لیکن ایران کا سامنا کرنے میں وہ صرف اپنی "قومی طاقت" کو بروئے کار لاتا ہے اور ایران کی "مہذب طاقت" کو نظر انداز کرتا ہے؛ یہی واشنگٹن کی سب سے بڑی اسٹراٹیجک غلطی ہے۔

ایران، کئی ہزار سال کی مسلسل تاریخ کے ساتھ، مقاومت کی اجتماعی یادداشت کے ساتھ اور ایک "اقداری نظام" کے تحت جس میں "شہادت" کو "ہتھیار ڈالنے" پر ترجیح حاصل ہے، اسے ـ بنیادی طور پر ـ "طاقت" کے ذریعے منظم نہیں کیا جا سکتا۔ پوری تاریخ میں سکندر سے لے کر منگولوں تک، روسیوں سے صدام تک، اس قوم نے ہر جارح کو کسی نہ کسی طرح ہضم کر لیا ہے یا پسپائی پر مجبور کر دیا ہے اور یہ "مسلسل انجام شدہ تجربہ (Lived experience)" ایرانیوں کے "تہذیبی لاشعور" کا حصہ بن چکا ہے۔

سلامتی کے کلاسیکی نظریات، ـ جو جان میئر شیمر (John Mearsheimer) کی "جارحانہ حقیقت پسندی (Offensive Realism)" کی بنیاد ہے ـ کی رو سے "فوجی طاقت سیاست کی حتمی اور انتہائی زبان ہے۔" لیکن یہ نظریات "ثقافتی تسدید (Cultural deterrence)" نامی رجحان کے مقابلے میں بے بس و بے اختیار ہیں۔ ثقافتی تسدید ـ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے ـ بھاری قیمت برداشت کرنے کے سلسلے میں ایک قوم کی قومی صلاحیت ہے، کیونکہ اس "عقل" کی وجہ سے جو ان اخراجات کا جواز پیش کرتی ہے۔

جب ٹرمپ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کا منصوبہ بناتا ہے تو اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ پابندیوں میں سختی لانے کی وجہ سے، ایرانی عوام سڑکوں پر آکر حکومت اور افواج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کریں گے! لیکن عملی طور پر جو کچھ ہوتا ہے وہ "الٹا ردعمل" ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: بہنام صدقی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha