اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تجزیے میں جنوبی لبنان میں 1982 سے جاری مزاحمت اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مزاحمت نے علاقے کے جغرافیے سے واقفیت، بہتر منصوبہ بندی اور طویل المدت جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے اسرائیلی فوج کو مسلسل مشکلات سے دوچار رکھا۔
تجزیے میں اقلیم التفاح کے علاقے کو اس طویل جنگ کی ایک نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگ کے طویل ہونے اور فوجی موجودگی کی قیمت بڑھنے سے قابض فوج کی ابتدائی برتری بتدریج غیر مؤثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں 1988 میں اللویزه اور جبل صافی کی لڑائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے تقریباً دو سال کی منصوبہ بندی اور متعدد مرحلوں کی تیاری کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائی کی، لیکن وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
اسی سال میدون کی لڑائی کو بھی اسرائیلی حملے کے مقابلے میں مزاحمت کی ایک اہم مثال قرار دیا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق اسرائیلی فوج نے زمینی، توپ خانے اور فضائی طاقت کا وسیع استعمال کیا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل نہ کر سکی۔
تجزیے میں الریحان آپریشن 1999 کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے مزاحمت کی جانب سے اسرائیلی فوج کے حفاظتی انتظامات کو عبور کرتے ہوئے مختلف سمتوں سے کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کی مثال قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز (INSS) کی 2009 کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے جنوبی لبنان میں 15 سالہ اسرائیلی فوجی موجودگی کے دوران درپیش اہم مشکلات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ان میں فوجی برتری کو فیصلہ کن فتح میں تبدیل نہ کر پانا، مستقل فوجی چوکیوں اور فوجی قافلوں کا غیر محفوظ ہونا، مزاحمت کو ختم کرنے میں فضائی اور تکنیکی برتری کی ناکامی اور اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بڑھتے ہوئے نفسیاتی و سیاسی اثرات شامل ہیں۔
تجزیے کے مطابق 2000 میں جنوبی لبنان سے اسرائیل کا انخلا کسی ایک جنگ میں فوجی شکست کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل المدت سکیورٹی حکمتِ عملی کی ناکامی کا نتیجہ تھا، جو اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
تجزیہ نگار کے مطابق مزاحمت نے مسلسل کارروائیوں اور اسرائیلی فوجی صلاحیت کو بتدریج کمزور کرنے کی حکمتِ عملی کے ذریعے ایسی صورتحال پیدا کر دی جس میں مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی قبضہ برقرار رکھنا مسلسل مہنگا ہوتا گیا، یہاں تک کہ ’’سکیورٹی بیلٹ کا تحفظ کیسے کیا جائے؟‘‘ کا سوال بالآخر ’’اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟‘‘ میں تبدیل ہو گیا۔
آپ کا تبصرہ