اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ایک تجزیے کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے جنگی اہداف میں نمایاں تبدیلی اور نرمی اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ واشنگٹن اس تنازع میں اپنے ابتدائی مقاصد حاصل کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں رہا۔
سی این این نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے آغاز میں واشنگٹن کی جانب سے ایران کے بارے میں پیش کیے گئے سخت اہداف اب محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدائی مطالبات میں ایرانی حکومت کی مکمل شکست یا تبدیلی، ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرنا شامل تھا۔
تاہم جنگ کے چھٹے ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ امریکی حکومت کے بیانات میں ان اہداف کی ترجیحات تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ وینس نے جنگ کے اختتام سے متعلق سوال کے جواب میں دو اہم مقاصد بیان کیے: امریکی عوام کے لیے تیل اور گیس کی قیمتیں کم رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
سی این این کے مطابق، توانائی کی قیمتوں کو جنگ کے بنیادی اہداف میں شامل کرنا قابلِ ذکر تبدیلی ہے، کیونکہ واشنگٹن کی سابقہ فہرستوں میں اس کا ذکر نہیں تھا۔ ماضی میں ایرانی میزائل تنصیبات کو تباہ کرنا، بحری یا فضائی قوت کو کمزور کرنا اور خطے میں اتحادی گروہوں کی مالی معاونت روکنا جیسے مقاصد زیرِ بحث آتے رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کھلا تھا، اس لیے اگر امریکی انتظامیہ اب توانائی کی قیمتوں کو معمول پر رکھنے اور جنگ سے پہلے کی صورتحال کی طرف واپسی کو ترجیح دے رہی ہے تو یہ واشنگٹن کے ابتدائی جنگی اہداف سے واضح پسپائی کی عکاسی کرتا ہے۔
سی این این نے مزید نشاندہی کی کہ حالیہ مہینوں میں امریکی حکومت کے ایران سے متعلق جوہری مطالبات میں بھی تبدیلی دکھائی دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور بعض جوہری مواد زیرِ زمین دفن ہونے کے باعث امریکی نگرانی میں بھی اس تک رسائی مشکل ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ ایران کو جوہری طور پر غیر مسلح کر دیا گیا ہے۔
تجزیے کے مطابق، یہ بیانات اس امکان کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ شاید ایران سے ابتدائی طور پر طے کیے گئے سخت اور وسیع مطالبات منوانے کے بجائے محدود اہداف پر سمجھوتے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
سی این این کے مطابق، اگر جنگ سے پہلے کی صورتحال کی بحالی اور امریکی توانائی کی قیمتوں کو کم رکھنا اب واشنگٹن کا اولین مقصد بن چکا ہے تو یہ اس بات کا اعتراف بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو اپنے ابتدائی اہداف کے مقابلے میں محدود کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
آپ کا تبصرہ