بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || آج [بروز جمعہ 18 ستمبر 2026ع] علی الصبح، واشنگٹن میں روسی فیڈریشن کے سفارت خانے نے امریکہ اور چین کے درمیان عسکری تصادم یا محاذ آرائی کی صورتحال پیدا ہونے کے امکان سے خبردار کیا۔
سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کے وہ اقدامات جن کا مقصد خود کو ماسکو اور بیجنگ سے دور کرنا (یا ان کے درمیان خلیج پیدا کرنا) ہے، کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں اور عسکری تصادم کے امکان کو بڑھا رہے ہیں۔
اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سپوتنک نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا: "روس اور چین کے ساتھ [امریکہ کی جانب سے پیدا کی جانے والی] بڑی خلیج، اگرچہ جغرافیائی-سیاسی اعتبار سے اس میں شامل کسی بھی فریق کے لئے فائدہ مند نہیں ہے، صرف یورپ میں ان عناصر کے مفادات کی تکمیل کرتی ہے جو تصادم کے حامی ہیں اور ماسکو، بیجنگ اور واشنگٹن کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔"
بیان میں روس اور ایران کے خلاف پابندیاں سخت کرنے والے بل کی امریکی کانگریس سے منظوری کی بھی مذمت کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے اقدامات ماسکو کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
امریکہ میں روسی سفارت خانے نے مزید کہا: "[آنجہانی] لنڈسے گراہم کی جانب سے پیش کردہ بل کے پیچھے کارفرما 'روس مخالف جذبات' (Russophobia) ـ جسے سینٹ سے ابتدائی منظوری کے بعد 16 ستمبر کو ایوانِ نمائندگان نے بھی منظور کر لیا تھا ـ موجودہ انتظامیہ کی 'امریکی عظمت کی بحالی' کے نعرے سے متصادم ہیں۔"
دریں اثنا، واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے بھی اس بل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے اور تیسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعاون میں عدم مداخلت کا مطالبہ کرتا ہے۔
واضح رہے کہ چین اور روس دونوں نے الگ الگ بیانات میں ایران اور روس کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کے امریکی بل کی مذمت کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ